اور آگ والے جنت والوں کو آواز دیں گے کہ ہم پر کچھ پانی بہا دو، یا اس میں سے کچھ جو اللہ نے تمھیں رزق دیا ہے۔ وہ کہیں گے بے شک اللہ نے یہ دونوں چیزیں کافروں پر حرام کر دی ہیں۔[50]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَنَادٰۤی
اَصۡحٰبُ النَّارِ
اَصۡحٰبَ الۡجَنَّۃِ
اَنۡ
اَفِیۡضُوۡا
عَلَیۡنَا
مِنَ الۡمَآءِ
اَوۡ
مِمَّا
رَزَقَکُمُ
اللّٰہُ
قَالُوۡۤا
اِنَّ
اللّٰہَ
حَرَّمَہُمَا
عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ
اور پکاریں گے
آگ والے
جنت والوں کو
کہ
ڈالو
ہم پر
کچھ پانی
یا
اس سے جو
رزق دیا تمہیں
اللہ نے
وہ کہیں گے
بےشک
اللہ نے
حرام کردیا ان دونو ں کو
کافروں پر
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَنَادٰۤی
اَصۡحٰبُ النَّارِ
اَصۡحٰبَ الۡجَنَّۃِ
اَنۡ
اَفِیۡضُوۡا
عَلَیۡنَا
مِنَ الۡمَآءِ
اَوۡ
مِمَّا
رَزَقَکُمُ
اللّٰہُ
قَالُوۡۤا
اِنَّ
اللّٰہَ
حَرَّمَہُمَا
عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ
اور پکاریں گے
دوزخ والے
جنت والوں کو
یہ کہ
تم بہا دو
ہم پر
کچھ پانی
یا
اس میں سے جو
رزق دیا ہے تمہیں
اللہ تعالیٰ نے
وہ کہیں گے
یقیناً
اللہ تعالیٰ نے
حرام کر دیا ہے ان دونوں کو
کافروں پر
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَنَادٰٓي
اَصْحٰبُ النَّارِ
اَصْحٰبَ
الْجَنَّةِ
اَنْ
اَفِيْضُوْا
عَلَيْنَا
مِنَ
الْمَآءِ
اَوْ
مِمَّا
رَزَقَكُمُ
اللّٰهُ
قَالُوْٓا
اِنَّ
اللّٰهَ
حَرَّمَهُمَا
عَلَي
الْكٰفِرِيْنَ
اور پکاریں گے
دوزخ والے
والے
جنت
کہ
بہاؤ (پہنچاؤ)
ہم پر
سے
پانی
یا
اس سے جو
تمہیں دیا
اللہ
وہ کہیں گے
بیشک
اللہ
اسے حرام کردیا
پر
کافر (جمع)
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]