بہت سے اہل کتاب چاہتے ہیں کاش! وہ تمھیں تمھارے ایمان کے بعد پھر کافر بنا دیں، اپنے دلوں کے حسد کی وجہ سے، اس کے بعد کہ ان کے لیے حق خوب واضح ہو چکا۔ سو تم معاف کرو اور درگزر کرو، یہاںتک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے۔ بے شک اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔[109]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَدَّ
کَثِیۡرٌ
مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ
لَوۡ
یَرُدُّوۡنَکُمۡ
مِّنۡۢ بَعۡدِ
اِیۡمَانِکُمۡ
کُفَّارًا
حَسَدًا
مِّنۡ عِنۡدِ
اَنۡفُسِہِمۡ
مِّنۡۢ بَعۡدِ
مَا
تَبَیَّنَ
لَہُمُ
الۡحَقُّ
فَاعۡفُوۡا
وَ اصۡفَحُوۡا
حَتّٰی
یَاۡتِیَ
اللّٰہُ
بِاَمۡرِہٖ
اِنَّ
اللّٰہَ
عَلٰی
کُلِّ
شَیۡءٍ
قَدِیۡرٌ
چاہتے ہیں
بہت سے
اہل کتاب میں سے
کاش
وہ پھیرا دیں تمہیں
سے اس کے
تمہارے ایمان کے
کافر بنا کر
حسد کی بنا پر
پاس سے
اپنے نفسوں کے
بعد اس کے
جو
واضح ہوگیا
ان کے لئے
حق
پس معاف کردو
اور در گزر کرو
یہاں تک کہ
لے آئے
اللہ
حکم اپنا
بےشک
اللہ
اوپر
ہر
چیز کے
بہت قدرت رکھنے والا ہے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَدَّ
کَثِیۡرٌ
مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ
لَوۡ
یَرُدُّوۡنَکُمۡ
مِّنۡۢ بَعۡدِ
اِیۡمَانِکُمۡ
کُفَّارًا
حَسَدًا
مِّنۡ عِنۡدِ اَنۡفُسِہِمۡ
مِّنۡۢ بَعۡدِ
مَا
تَبَیَّنَ
لَہُمُ
الۡحَقُّ
فَاعۡفُوۡا
وَ اصۡفَحُوۡا
حَتّٰی
یَاۡتِیَ
اللّٰہُ
بِاَمۡرِہٖ
اِنَّ
اللّٰہَ
عَلٰی
کُلِّ
شَیۡءٍ
قَدِیۡرٌ
چاہتے ہیں
اکثر لوگ
اہل کتاب میں سے
کاش
وہ پلٹا دے تمہیں
بعد
تمہارے ایمان کے
کافر بنا دیں
حسد سے
اپنے دلوں میں
بعد
اس کے
پوری طرح واضح ہوگیا
ان کے لئے
حق
چنانچہ آپ معاف کردیں
اور در گزر کریں
یہاں تک کہ
لے آئے
اللہ
فیصلہ اپنا
یقیناً
اللہ تعالیٰ
اوپر
ہر
چیز کے
پوری قدرت رکھنے والا ہے
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَدَّ کَثِیْرٌ
مِنْ اَهْلِ الْكِتَابِ
لَوْ يَرُدُّوْنَكُمْ
مِنْ
بَعْدِ
اِیْمَانِكُمْ
كُفَّارًا
حَسَدًا
مِنْ عِنْدِ
اَنْفُسِهِمْ
مِنْ
بَعْدِ
مَا
تَبَيَّنَ
لَهُمُ
الْحَقُّ
فَاعْفُوْا
وَ اصْفَحُوْا
حَتّٰى
يَأْتِيَ اللّٰهُ
بِاَمْرِهٖ
اِنَّ اللہ
عَلٰى
كُلِّ شَيْءٍ
قَدِیْرٌ
چاہا بہت
اہل کتاب میں سے
کاش تمہیں لوٹادیں
سے
بعد
تمہارا ایمان
کفر میں
حسد
وجہ سے
اپنے دل
سے
بعد
جبکہ
واضح ہوگیا
ان پر
حق
پس تم معاف کر دو
اور در گزر کرو
یہاں تک
اللہ لائے
اپنا حکم
بیشک اللہ
پر
ہر چیز
قادر
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
قَدَّرَ:وہ قوانین فطرت ہے جو اللہ تعالی نے اپنے علم و حکمت سے مقرر کر رکھے ہیں اور یہ مستحق الدلائل ہوتے ہیں اور قَدَّرَ ایسے قوانین پر مبنی اندازہ کو کہتے ہیں۔