بے شک میں نے اللہ پر بھروسا کیا، جو میرا رب ہے اور تمھارا رب ہے۔ کوئی چلنے والا (جاندار) نہیں مگر وہ اس کی پیشانی کے بالوں کو پکڑے ہوئے ہے۔ بے شک میرا رب سیدھے راستے پر ہے۔[56]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
اِنِّیۡ
تَوَکَّلۡتُ
عَلَی اللّٰہِ
رَبِّیۡ
وَرَبِّکُمۡ
مَا
مِنۡ دَآبَّۃٍ
اِلَّا
ہُوَ
اٰخِذٌۢ
بِنَاصِیَتِہَا
اِنَّ
رَبِّیۡ
عَلٰی صِرَاطٍ
مُّسۡتَقِیۡمٍ
بےشک میں
توکل کیا میں نے
اللہ پر
جو رب ہے میرا
اور رب ہے تمہارا
نہیں
کوئی جاندار
مگر
وہ
پکڑنے والا ہے
پیشانی اس کی
بےشک
رب میرا
اوپر راستے
سیدھے کے ہے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
اِنِّیۡ
تَوَکَّلۡتُ
عَلَی اللّٰہِ
رَبِّیۡ
وَرَبِّکُمۡ
مَا
مِنۡ دَآبَّۃٍ
اِلَّا
ہُوَ
اٰخِذٌۢ
بِنَاصِیَتِہَا
اِنَّ
رَبِّیۡ
عَلٰی
صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ
یقیناً میں نے
بھروسہ کیا میں نے
اللہ تعالیٰ پر
رب ہے میرا
اور رب ہے تمہارا
نہیں
کوئی جاندار
مگر
وہ
پکڑ نے والا ہے
اُ س کی پیشانی کے بالوں کو
یقیناً
رب میرا
اوپر
سیدھی راہ
حافظ نذر احمد حفظه الله
اِنِّىْ
تَوَكَّلْتُ
عَلَي اللّٰهِ
رَبِّيْ
وَرَبِّكُمْ
مَا
مِنْ
دَآبَّةٍ
اِلَّا
هُوَ
اٰخِذٌ
بِنَاصِيَتِهَا
اِنَّ
رَبِّيْ
عَلٰي
صِرَاطٍ
مُّسْتَقِيْمٍ
بیشک میں
میں نے بھروسہ کیا
اللہ پر
میرا رب
اور تمہارا رب
نہیں
کوئی
چلنے والا
مگر
وہ
پکڑنے والا
اس کو چوٹی سے
بیشک
میرا رب
پر
راستہ
سیدھا
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]