انھوں نے کہا اے صالح! یقینا تو ہم میں وہ تھا جس پر اس سے پہلے امیدیں رکھی گئی تھیں، کیا تو ہمیں منع کرتا ہے کہ ہم ان کی عبادت کریں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے ہیں اور بے شک ہم اس بات کے بارے میں جس کی طرف تو ہمیں دعوت دیتا ہے، یقینا ایک بے چین رکھنے والے شک میں ہیں۔[62]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
قَالُوۡا
یٰصٰلِحُ
قَدۡ
کُنۡتَ
فِیۡنَا
مَرۡجُوًّا
قَبۡلَ
ہٰذَاۤ
اَتَنۡہٰنَاۤ
اَنۡ
نَّعۡبُدَ
مَا
یَعۡبُدُ
اٰبَآؤُنَا
وَاِنَّنَا
لَفِیۡ شَکٍّ
مِّمَّا
تَدۡعُوۡنَاۤ
اِلَیۡہِ
مُرِیۡبٍ
انہوں نے کہا
اے صالح
تحقیق
تھا تو
ہمارے درمیان
جس سے امید رکھی گئی
قبل
اس کے
کیا تو روکتا ہے ہمیں
کہ
ہم عبادت کریں
جس کی
عبادت کرتے تھے
آباؤ اجداد ہمارے
اور بےشک ہم
البتہ شک میں ہیں
اس سے جو
تم بلاتے ہوہمیں
طرف اس کے
بےچین کردینے والا ہے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
قَالُوۡا
یٰصٰلِحُ
قَدۡ
کُنۡتَ
فِیۡنَا
مَرۡجُوًّا
قَبۡلَ
ہٰذَاۤ
اَتَنۡہٰنَاۤ
اَنۡ
نَّعۡبُدَ
مَا
یَعۡبُدُ
اٰبَآؤُنَا
وَاِنَّنَا
لَفِیۡ شَکٍّ
مِّمَّا
تَدۡعُوۡنَاۤ
اِلَیۡہِ
مُرِیۡبٍ
انہوں نے کہا
اے صالح
یقیناً
تھے تم
ہم میں
امیدیں رکھی گئی تھی
پہلے
اس سے
کیا تم روکتے ہو ہمیں
یہ کہ
ہم عبادت کریں
جن کی
عبادت کرتے تھے
ہمارے باپ دادا
اور بلاشبہ ہم
یقیناً شک میں ہیں
اس کے بارے میں
تم بلاتے ہو ہمیں
طرف اُس کی
ایک بے چین رکھنے والے شک میں
حافظ نذر احمد حفظه الله
قَالُوْا
يٰصٰلِحُ
قَدْ كُنْتَ
فِيْنَا
مَرْجُوًّا
قَبْلَ ھٰذَآ
اَتَنْهٰىنَآ
اَنْ نَّعْبُدَ
مَا يَعْبُدُ
اٰبَآؤُنَا
وَاِنَّنَا
لَفِيْ شَكٍّ
مِّمَّا
تَدْعُوْنَآ
اِلَيْهِ
مُرِيْبٍ
وہ بولے
اے صالح
تو تھا
ہم میں (ہمارے درمیان)
مرکز امید
اس سے قبل
کیا تو ہمیں منع کرتا ہے
کہ ہم پرستش کریں
اسے جس کی پرستش کرتے تے
ہمارے باپ دادا
اور بیشک ہم
شک میں ہیں
اس سے جو
تو ہمیں بلاتا ہے
اس کی طرف
قوی شبہ میں
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]