اور تیرے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بہت اچھا سلوک کرو۔ اگر کبھی تیرے پاس دونوں میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ ہی جائیں تو ان دونوں کو ’’اف‘‘ مت کہہ اور نہ انھیں جھڑک اور ان سے بہت کرم والی بات کہہ۔[23]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَقَضٰی
رَبُّکَ
اَلَّا
تَعۡبُدُوۡۤا
اِلَّاۤ
اِیَّاہُ
وَبِالۡوَالِدَیۡنِ
اِحۡسَانًا
اِمَّا
یَبۡلُغَنَّ
عِنۡدَکَ
الۡکِبَرَ
اَحَدُہُمَاۤ
اَوۡ
کِلٰہُمَا
فَلَا
تَقُلۡ
لَّہُمَاۤ
اُفٍّ
وَّلَا
تَنۡہَرۡہُمَا
وَقُلۡ
لَّہُمَا
قَوۡلًا
کَرِیۡمًا
اور فیصلہ کردیا ہے
آپ کے رب نے
کہ نہ
تم عبادت کرو
مگر
صرف اسی کی
اور ساتھ والدین کے
احسان کرنا
اگر
و ہ پہنچیں
تیرے پاس
بڑھاپے کو
ان دونوں میں سے ایک
یا
وہ دونوں
تو نہ
تم کہنا
ان دونوں کے لئے
اُف
اور نہ
تم جھڑکنا ان دونوں کو
اور کہنا
ان دونوں کو
بات
عزت والی/عمدہ
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَقَضٰی
رَبُّکَ
اَلَّا
تَعۡبُدُوۡۤا
اِلَّاۤ
اِیَّاہُ
وَبِالۡوَالِدَیۡنِ
اِحۡسَانًا
اِمَّا
یَبۡلُغَنَّ
عِنۡدَکَ
الۡکِبَرَ
اَحَدُہُمَاۤ
اَوۡ
کِلٰہُمَا
فَلَا
تَقُلۡ
لَّہُمَاۤ
اُفٍّ
وَّلَا
تَنۡہَرۡ
ہُمَا
وَقُلۡ
لَّہُمَا
قَوۡلًا
کَرِیۡمًا
اور فیصلہ کر دیا
آپ کے رب نے
یہ کہ نہ
تم عبادت کرو
سوائے
اُس کے
اوروالدین کے ساتھ
اچھا سلوک کرو
اگر
وہ پہنچ جائیں
آپ کے پاس
بڑھاپے کو
ان دونوں میں سے ایک
یا
وہ دونوں
تو نہ
تم کہو
ان دونوں کے لیے
اُف
اور نہ ہی
تم جھڑکو
اُن دونوں کو
اور کہہ
اُن دونوں سے
بات
عزت والی
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَقَضٰى
رَبُّكَ
اَلَّا تَعْبُدُوْٓا
اِلَّآ اِيَّاهُ
وَبِالْوَالِدَيْنِ
اِحْسَانًا
اِمَّا يَبْلُغَنَّ
عِنْدَكَ
الْكِبَرَ
اَحَدُهُمَآ
اَوْ
كِلٰهُمَا
فَلَا تَقُلْ
لَّهُمَآ
اُفٍّ
وَّلَا تَنْهَرْهُمَا
وَقُلْ
لَّهُمَا
قَوْلًا
كَرِيْمًا
اور حکم فرمادیا
تیرا رب
کہ نہ عبادت کرو
اس کے سوا
اور ماں باپ سے
حسن سلوک
اگر وہ پہنچ جائیں
تیرے سامنے
بڑھاپا
ان میں سے ایک
یا
وہ دونوں
تو نہ کہہ
انہیں
اف
اور نہ جھڑکو انہیں
اور کہو
ان دونوں سے
بات
ادب کے ساتھ
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]