سو دونوں چل پڑے، یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس نے اسے پھاڑ دیا۔ کہا کیا تو نے اسے اس لیے پھاڑ دیا ہے کہ اس کے سواروں کو غرق کر دے، بلاشبہ یقینا تو ایک بہت بڑے کام کو آیا ہے۔[71]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
فَانۡطَلَقَا
حَتّٰۤی
اِذَا
رَکِبَا
فِی السَّفِیۡنَۃِ
خَرَقَہَا
قَالَ
اَخَرَقۡتَہَا
لِتُغۡرِقَ
اَہۡلَہَا
لَقَدۡ
جِئۡتَ
شَیۡئًا
اِمۡرًا
تو دونوں چل دیئے
یہاں تک کہ
جب
وہ دونوں سوار ہوئے
کشتی میں
تو اس نے سوراخ کر دیا اس میں
کہا
کیا سوراخ کر دیا تم نے اس میں
تا کہ تم غرق کرو
اس کے مالکوں(سواروں) کو
البتہ تحقیق
لائے ہو تم
ایک چیز
بڑی عجیب
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
فَانۡطَلَقَا
حَتّٰۤی
اِذَا
رَکِبَا
فِی السَّفِیۡنَۃِ
خَرَقَہَا
قَالَ
اَخَرَقۡتَہَا
لِتُغۡرِقَ
اَہۡلَہَا
لَقَدۡ
جِئۡتَ
شَیۡئًا اِمۡرًا
چنانچہ وہ دونوں چل پڑے
حتی کہ
جب وہ
سوار ہوگئے
کشتی میں
اس نے شگاف ڈال دیا اس میں
موسیٰ نے کہا
کیا آپ نے شگاف ڈال دیا اُس میں
کہ آپ ڈبودیں
کشتی والوں کو
بلاشبہ یقیناً
آپ نے کیا ہے
بُرا کام
حافظ نذر احمد حفظه الله
فَانْطَلَقَا
حَتّٰٓي
اِذَا
رَكِبَا
فِي السَّفِيْنَةِ
خَرَقَهَا
قَالَ
اَخَرَقْتَهَا
لِتُغْرِقَ
اَهْلَهَا
لَقَدْ جِئْتَ
شَيْئًا
اِمْرًا
پھر وہ دونوں چلے
یہاں تک کہ
جب
وہ دونوں سوار ہوئے
کشتی میں
اس نے سوراخ کردیا اس میں
اس نے کہا
تم نے اس میں سوراخ کردیا
کہ تم غرق کردو
اس کے سوار
البتہ تو لایا (تونے کی)
ایک بات
بھاری
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
طلاق:الطلاق اور تسریح دونوں لفظ عورت کی جدائی یا عام مفہوم میں طلاق کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ الطلاق میں تخلیہ ضروری اور ارسال جزوی شرط ہے جب کے تسریخ میں لازمی جز ارسال ہے اور وہ بھی آسانی وسہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے۔