اور تم پر اس بات میں کچھ گناہ نہیں جس کے ساتھ تم ان عورتوں کے پیغام نکاح کا اشارہ کرو، یا اپنے دلوں میں چھپائے رکھو، اللہ جانتا ہے کہ تم انھیں ضرور یاد کرو گے، اور لیکن ان سے پوشیدہ عہد و پیمان مت کرو، مگر یہ کہ کوئی معروف بات کرو اور نکاح کی گرہ پختہ نہ کرو، یہاں تک کہ لکھا ہوا حکم اپنی مدت کو پہنچ جائے اور جان لو کہ اللہ جانتا ہے جو تمھارے دلوں میں ہے، پس اس سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت بردبار ہے۔[235]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَلَا
جُنَاحَ
عَلَیۡکُمۡ
فِیۡمَا
عَرَّضۡتُمۡ
بِہٖ
مِنۡ خِطۡبَۃِ
النِّسَآءِ
اَوۡ
اَکۡنَنۡتُمۡ
فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمۡ
عَلِمَ
اللّٰہُ
اَنَّکُمۡ
سَتَذۡکُرُوۡنَہُنَّ
وَلٰکِنۡ
لَّاتُوَاعِدُوۡہُنَّ
سِرًّا
اِلَّاۤ
اَنۡ
تَقُوۡلُوۡا
قَوۡلًا
مَّعۡرُوۡفًا
وَلَا
تَعۡزِمُوۡا
عُقۡدَۃَ
النِّکَاحِ
حَتّٰی
یَبۡلُغَ
الۡکِتٰبُ
اَجَلَہٗ
وَاعۡلَمُوۡۤا
اَنَّ
اللّٰہَ
یَعۡلَمُ
مَا
فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمۡ
فَاحۡذَرُوۡہُ
وَاعۡلَمُوۡۤا
اَنَّ
اللّٰہَ
غَفُوۡرٌ
حَلِیۡمٌ
اور نہیں
کوئی گناہ
تم پر
اس میں جو
اشارہ کرو تم
ساتھ اس کے
پیغام نکاح سے
عورتوں کے
یا
چھپائے رکھو تم
اپنے نفسوں میں
جانتا ہے
اللہ
کہ بیشک تم
ضرور تم ذکر کروگے ان کا
اور لیکن
نہ تم وعدہ لو ان سے
چھپ کر
مگر
یہ کہ
تم کہو
بات
بھلی
اور نہ
تم عزم کرو
عقد کا
نکاح کے
یہاں تک کہ
پہنچ جائے
مقرر میعاد
اپنی مدت کو
اور جان لو
بیشک
اللہ
جانتا ہے
اسےجو
تمہارے نفسوں میں ہے
پس ڈرو اس سے
اور جان لو
بیشک
اللہ
بہت بخشنے والا
بہت بردبار ہے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَلَا
جُنَاحَ
عَلَیۡکُمۡ
فِیۡمَا
عَرَّضۡتُمۡ
بِہٖ
مِنۡ خِطۡبَۃِ
النِّسَآءِ
اَوۡ
اَکۡنَنۡتُمۡ
فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمۡ
عَلِمَ
اللّٰہُ
اَنَّکُمۡ
سَتَذۡکُرُوۡنَہُنَّ
وَلٰکِنۡ
لَّاتُوَاعِدُوۡہُنَّ
سِرًّا
اِلَّاۤ
اَنۡ
تَقُوۡلُوۡا
قَوۡلًا
مَّعۡرُوۡفًا
وَلَا
تَعۡزِمُوۡا
عُقۡدَۃَ النِّکَاحِ
حَتّٰی
یَبۡلُغَ
الۡکِتٰبُ
اَجَلَہٗ
وَاعۡلَمُوۡۤا
اَنَّ
اللّٰہَ
یَعۡلَمُ
مَا
فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمۡ
فَاحۡذَرُوۡہُ
وَاعۡلَمُوۡۤا
اَنَّ
اللّٰہَ
غَفُوۡرٌ
حَلِیۡمٌ
اور نہیں
کوئی گناہ
تم پر
اس میں جو
اشارہ کر و تم
ساتھ اس کے
پیغا م نکا ح کا
عورتوں کے
یا
چھپاؤتم
اپنے دل میں
جان لیا ہے
اللہ تعا لیٰ نے
لاز ما ًتم
تم انہیں ضرور یاد کرو گے
لیکن
نہ تم عہد و پیما ن کر و ان سے
پوشیدہ
مگر
یہ کہ
تم کہو
بات
معر وف
اور نہ
تم ارادہ کرو
عقد نکاح کا
یہاں تک کہ
پہنچ جائے
عدت
اپنی انتہا کو
اور جان لو
یقیناً
اللہ تعا لٰی
وہ جانتا ہے
جو
تمہارے دلوں میں ہے
لہذ ا تم ڈرجاو اس سے
اور جان لو
یقیناً
اللہ تعا لٰی
بے حد بخشنے والا
نہا یت بردبار ہے
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَلَا جُنَاحَ
عَلَيْكُمْ
فِيْمَا
عَرَّضْتُمْ
بِهٖ
مِنْ خِطْبَةِ
النِّسَآءِ
اَوْ
اَكْنَنْتُمْ
فِيْٓ اَنْفُسِكُمْ
عَلِمَ اللّٰهُ
اَنَّكُمْ
سَتَذْكُرُوْنَهُنَّ
وَلٰكِنْ
لَّا تُوَاعِدُوْھُنَّ
سِرًّا
اِلَّآاَنْ
تَقُوْلُوْا
قَوْلًا
مَّعْرُوْفًا
وَلَا
تَعْزِمُوْا
عُقْدَةَ
النِّكَاحِ
حَتّٰي
يَبْلُغَ
الْكِتٰبُ
اَجَلَهٗ
وَاعْلَمُوْٓا
اَنَّ
اللّٰهَ
يَعْلَمُ
مَا
فِىْ
اَنْفُسِكُمْ
فَاحْذَرُوْهُ
وَاعْلَمُوْٓا
اَنَّ
اللّٰهَ
غَفُوْرٌ
حَلِيْمٌ
اور نہیں گناہ
تم پر
میں۔ جو
اشارہ میں
اس سے
پیغام نکاح
عورتوں کو
یا
تم چھپاؤ
اپنے دلوں میں
جانتا ہے۔ اللہ
کہ تم
جلد ذکر کروگے ان سے
اور لیکن
نہ وعدہ کرو ان سے
چھپ کر
مگر یہ کہ
تم کہو
بات
دستور کے مطابق
اور نہ
ارادہ کرو
گرہ
نکاح
یہانتک
پہنچ جائے
عدت
اس کی مدت
اور جان لو
کہ
اللہ
جانتا ہے
جو
میں
اپنے دل
سو ڈرو اس سے
اور جان لو
کہ
اللہ
بخشنے والا
تحمل والا
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]