اور اگر تم انھیں اس سے پہلے طلاق دے دو کہ انھیں ہاتھ لگائو، اس حال میں کہ تم ان کے لیے کوئی مہر مقرر کر چکے ہو تو تم نے جو مہر مقرر کیا ہے اس کا نصف (لازم) ہے، مگر یہ کہ وہ معاف کر دیں، یا وہ شخص معاف کر دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے اور یہ (بات) کہ تم معاف کر دو تقویٰ کے زیادہ قریب ہے اور آپس میں احسان کرنا نہ بھولو، بے شک اللہ اس کو جو تم کر رہے ہو، خوب دیکھنے والا ہے۔[237]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَاِنۡ
طَلَّقۡتُمُوۡہُنَّ
مِنۡ قَبۡلِ
اَنۡ
تَمَسُّوۡہُنَّ
وَقَدۡ
فَرَضۡتُمۡ
لَہُنَّ
فَرِیۡضَۃً
فَنِصۡفُ
مَا
فَرَضۡتُمۡ
اِلَّاۤ
اَنۡ
یَّعۡفُوۡنَ
اَوۡ
یَعۡفُوَا
الَّذِیۡ
بِیَدِہٖ
عُقۡدَۃُ
النِّکَاحِ
وَاَنۡ
تَعۡفُوۡۤا
اَقۡرَبُ
لِلتَّقۡوٰی
وَلَا
تَنۡسَوُا
الۡفَضۡلَ
بَیۡنَکُمۡ
اِنَّ
اللّٰہَ
بِمَا
تَعۡمَلُوۡنَ
بَصِیۡرٌ
اور اگر
طلاق دے دو تم انہیں
اس سے پہلے
کہ
تم نے چھوا انہیں
اور تحقیق
مقرر کردیا تھا تم نے
ان کے لیے
کوئی مہر
تو آدھا ہے
اس کا جو
مقرر کر چکے تم (مہر)
مگر
یہ کہ
وہ (عورتیں) معاف کردیں
یا
معاف کردے
وہ شخص
جس کے ہاتھ میں ہے
گرہ
نکاح کی
اور یہ کہ
تم معاف کردو
زیادہ قریب ہے
تقوی کے
اور نہ
تم بھولو
احسان کو
آپس میں
بیشک
اللہ
اس جو
تم عمل کرتے ہو
خوب دیکھنے والا ہے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَاِنۡ
طَلَّقۡتُمُوۡہُنَّ
مِنۡ قَبۡلِ
اَنۡ
تَمَسُّوۡہُنَّ
وَقَدۡ
فَرَضۡتُمۡ
لَہُنَّ
فَرِیۡضَۃً
فَنِصۡفُ
مَا
فَرَضۡتُمۡ
اِلَّاۤ
اَنۡ
یَّعۡفُوۡنَ
اَوۡ
یَعۡفُوَا
الَّذِیۡ
بِیَدِہٖ
عُقۡدَۃُ
النِّکَاحِ
وَاَنۡ
تَعۡفُوۡۤا
اَقۡرَبُ
لِلتَّقۡوٰی
وَلَاتَنۡسَوُا
الۡفَضۡلَ
بَیۡنَکُمۡ
اِنَّ
اللّٰہَ
بِمَا
تَعۡمَلُوۡنَ
بَصِیۡرٌ
اور اگر
تم نےطلاق دے دی انہیں
پہلے
کہ
تم ہاتھ لگا ؤانہیں
اور یقیناً
تم مقرر کرچکے تھے
ان کے لیے
مہر
تو آدھا ہے
اس کاجو
مقرر کیا تم نے
مگر
یہ کہ
وہ معاف کردیں
یا
وہ معاف کردے
وہ جو
جس کے ہاتھ میں ہے
گرہ
نکاح کی
اور یہ کہ
تم معاف کردو
زیادہ قریب ہے
تقوی کے
اور نہ تم بھولو
فضل کو
آپس میں
یقیناً
اللہ تعا لٰی
اس کو جو
تم عمل کرتے ہو
خوب دیکھنے والا ہے
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَاِنْ
طَلَّقْتُمُوْھُنَّ
مِنْ قَبْلِ
اَنْ
تَمَسُّوْھُنَّ
وَقَدْ فَرَضْتُمْ
لَھُنَّ
فَرِيْضَةً
فَنِصْفُ
مَا
فَرَضْتُمْ
اِلَّآ
اَنْ
يَّعْفُوْنَ
اَوْ
يَعْفُوَا
الَّذِيْ
بِيَدِهٖ
عُقْدَةُ النِّكَاحِ
وَ
اَنْ
تَعْفُوْٓا
اَقْرَبُ
لِلتَّقْوٰى
وَلَا تَنْسَوُا
الْفَضْلَ
بَيْنَكُمْ
اِنَّ
اللّٰهَ
بِمَا
تَعْمَلُوْنَ
بَصِيْرٌ
اور اگر
تم انہیں طلاق دو
پہلے
کہ
انہیں ہاتھ لگاؤ
اور تم مقرر کرچکے ہو
ان کے لیے
مہر
تو نصف
جو
تم نے مقرر کیا
سوائے
یہ کہ
وہ معاف کردیں
یا
معاف کردے
وہ جو
اس کے ہاتھ میں
نکاح کی گرہ
اور
اگر
تم معاف کردو
زیادہ قریب
پرہیزگاری کے
اور نہ بھولو
احسان کرنا
باہم
بیشک
اللہ
اس سے جو
تم کرتے ہو
دیکھنے والا
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
طلاق:الطلاق اور تسریح دونوں لفظ عورت کی جدائی یا عام مفہوم میں طلاق کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ الطلاق میں تخلیہ ضروری اور ارسال جزوی شرط ہے جب کے تسریخ میں لازمی جز ارسال ہے اور وہ بھی آسانی وسہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے۔