اور اپنی آنکھیں ان چیزوں کی طرف ہرگز نہ اٹھا جو ہم نے ان کے مختلف قسم کے لوگوں کو دنیا کی زندگی کی زینت کے طور پر برتنے کے لیے دی ہیں، تاکہ ہم انھیں اس میں آزمائیں اور تیرے رب کا دیا ہوا سب سے اچھا اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا ہے۔[131]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَلَا
تَمُدَّنَّ
عَیۡنَیۡکَ
اِلٰی مَا
مَتَّعۡنَا
بِہٖۤ
اَزۡوَاجًا
مِّنۡہُمۡ
زَہۡرَۃَ
الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا
لِنَفۡتِنَہُمۡ
فِیۡہِ
وَرِزۡقُ
رَبِّکَ
خَیۡرٌ
وَّاَبۡقٰی
اور نہ
ہر گز آپ دراز کریں
اپنی دونوں آنکھیں
طرف اس کے جو
فائدہ دیا ہم نے
ساتھ اس کے
مختلف لوگوں کو
ان میں سے
رونق کے لیے
دنیا کی زندگی کی
تا کہ ہم آزمائیں انہیں
اس میں
اور رزق
آپ کے رب کا
بہتر ہے
اور زیادہ باقی رہنے والا
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَلَا تَمُدَّنَّ
عَیۡنَیۡکَ
اِلٰی
مَا
مَتَّعۡنَا
بِہٖۤ
اَزۡوَاجًا
مِّنۡہُمۡ
زَہۡرَۃَ
الۡحَیٰوۃِ
الدُّنۡیَا
لِنَفۡتِنَہُمۡ
فِیۡہِ
وَرِزۡقُ
رَبِّکَ
خَیۡرٌ
وَّاَبۡقٰی
اور آپ ہر گز نہ اٹھائیں
اپنی نظریں
طرف
اس کے جو
سروسامان دیا ہم نے
اس کو
مختلف قسم کے لوگوں کو
ان میں سے
زینت ہے
زندگی کی
دنیا کی
تاکہ ہم آزمائش میں ڈالیں ان کو
اس میں
اور رزق
آپ کے رب کا
بہتر ہے
اور زیادہ باقی رہنے والا ہے
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَ
لَا تَمُدَّنَّ
عَيْنَيْكَ
اِلٰى
مَا مَتَّعْنَا
بِهٖٓ
اَزْوَاجًا
مِّنْهُمْ
زَهْرَةَ
الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا
لِنَفْتِنَهُمْ
فِيْهِ
وَرِزْقُ
رَبِّكَ
خَيْرٌ
وَّاَبْقٰي
اور
نہ پھیلانا
اپنی آنکھیں
طرف
جو ہم نے برتنے کو دیا
اس سے
جوڑے
ان سے۔ کے
آرائش
دنیا کی زندگی
تاکہ ہم انہیں آزمائیں
اس میں
اور عطیہ
تیرا رب
بہتر
اور تادیر رہنے والا
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
فَتَنَ:بذات خود سخت مگر دل کشی سے ہوتی ہے۔ یعنی بالعموم ایسی چیزوں سے ہوتی ہے جن سے انسان کا دلی لگاؤ ہو۔ دوسرے تو کیا بسا اوقات خود مفتون کو بھی اس آزمائش کا پتہ نہیں چلتا کہ وہ اس میں مبتلا ہے۔