پھر جب طالوت لشکروں کو لے کر جدا ہوا تو کہا بے شک اللہ ایک نہر کے ساتھ تمھاری آزمائش کرنے والا ہے، پس جس نے اس میں سے پیا تو وہ مجھ سے نہیں اور جس نے اسے نہ چکھا تو بے شک وہ مجھ سے ہے، مگر جو اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر پانی لے لے۔ تو ان میں سے تھوڑے لوگوں کے سوا سب نے اس سے پی لیا۔ تو جب وہ اور اس کے ساتھ وہ لوگ نہر سے پار ہوگئے جو ایمان لائے تھے، توانھوں نے کہا آج ہمارے پاس جالوت اور اس کے لشکروں سے مقابلے کی کوئی طاقت نہیں۔ جو لوگ سمجھتے تھے کہ وہ اللہ سے ملنے والے ہیں انھوں نے کہا کتنی ہی تھوڑی جماعتیں زیادہ جماعتوں پر اللہ کے حکم سے غالب آگئیں اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔[249]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
فَلَمَّا
فَصَلَ
طَالُوۡتُ
بِالۡجُنُوۡدِ
قَالَ
اِنَّ
اللّٰہَ
مُبۡتَلِیۡکُمۡ
بِنَہَرٍ
فَمَنۡ
شَرِبَ
مِنۡہُ
فَلَیۡسَ
مِنِّیۡ
وَمَنۡ
لَّمۡ
یَطۡعَمۡہُ
فَاِنَّہٗ
مِنِّیۡۤ
اِلَّا
مَنِ
اغۡتَرَفَ
غُرۡفَۃًۢ
بِیَدِہٖ
فَشَرِبُوۡا
مِنۡہُ
اِلَّا
قَلِیۡلًا
مِّنۡہُمۡ
فَلَمَّا
جَاوَزَہٗ
ہُوَ
وَالَّذِیۡنَ
اٰمَنُوۡا
مَعَہٗ
قَالُوۡا
لَاطَاقَۃَ
لَنَا
الۡیَوۡمَ
بِجَالُوۡتَ
وَجُنُوۡدِہٖ
قَالَ
الَّذِیۡنَ
یَظُنُّوۡنَ
اَنَّہُمۡ
مُّلٰقُوا
اللّٰہِ
کَمۡ
مِّنۡ فِئَۃٍ
قَلِیۡلَۃٍ
غَلَبَتۡ
فِئَۃً
کَثِیۡرَۃًۢ
بِاِذۡنِ اللّٰہِ
وَاللّٰہُ
مَعَ
الصّٰبِرِیۡنَ
پس جب
جدا ہوا
طالوت
ساتھ لشکروں کے
اس نے کہا
بیشک
اللہ تعالی
آزمانے والا ہے تمہیں
ایک نہر سے
تو جس نے
پیا
اس سے
تو نہیں وہ
مجھ سے
اور جس نے
نہ
چکھا اسے
تو بیشک وہ
مجھ سے ہے
مگر
جو
چلو بھر لے
ایک چلو
اپنے ہاتھ سے
تو انہوں نے پی لیا
اس سے
مگر
بہت تھوڑوے
ان میں سے
پھر جب
اس نے پار کیا اسے
اس نے
اور انہوں نے جو
ایمان لائے تھے
ساتھ اس کے
انہوں نے کہا
نہیں کوئی طاقت
ہمارے لیے
آج
ساتھ جالوت
اور اس کے لشکروں کے
کہا
انہوں نے جو
یقین رکھتے تھے
کہ بیشک وہ
ملاقات کرنے والے ہیں
اللہ سے
کتنی ہی
جماعتیں
کم (تعداد )کی
غالب آجاتی ہیں
جماعتوں پر
کثیر (تعداد) کی
اللہ کے اذن سے
اور اللہ
ساتھ ہے
صبر کرنے والوں کے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
فَلَمَّا
فَصَلَ
طَالُوۡتُ
بِالۡجُنُوۡدِ
قَالَ
اِنَّ
اللّٰہَ
مُبۡتَلِیۡکُمۡ
بِنَہَرٍ
فَمَنۡ
شَرِبَ
مِنۡہُ
فَلَیۡسَ
مِنِّیۡ
وَمَنۡ
لَّمۡ یَطۡعَمۡہُ
فَاِنَّہٗ
مِنِّیۡۤ
اِلَّا
مَنِ
اغۡتَرَفَ
غُرۡفَۃًۢ
بِیَدِہٖ
فَشَرِبُوۡا
مِنۡہُ
اِلَّا
قَلِیۡلًا
مِّنۡہُمۡ
فَلَمَّا
جَاوَزَہٗ
ہُوَ
وَالَّذِیۡنَ
اٰمَنُوۡا
مَعَہٗ
قَالُوۡا
لَا
طَاقَۃَ
لَنَا
الۡیَوۡمَ
بِجَالُوۡتَ
وَجُنُوۡدِہٖ
قَالَ
الَّذِیۡنَ
یَظُنُّوۡنَ
اَنَّہُمۡ
مُّلٰقُوا
اللّٰہِ
کَمۡ
مِّنۡ فِئَۃٍ
قَلِیۡلَۃٍ
غَلَبَتۡ
فِئَۃً
کَثِیۡرَۃًۢ
بِاِذۡنِ
اللّٰہِ
وَاللّٰہُ
مَعَ
الصّٰبِرِیۡنَ
پس جب
جدا ہوا
طالوت
ساتھ فوجوں کے
اس نے کہا
بیشک
اللہ تعالیٰ
آزمانے والا ہے تمہیں
ایک نہر کے ذریعے
چنانچہ جس نے
پیا
اس میں سے
تو نہیں ہے
مجھ سے
اور جس نے
نہ چکھا اسے
تو یقینا ًوہ
مجھ سے ہے
مگر
جوکوئی
بھر لے
ایک چلو
ساتھ اپنے ہاتھ کے
سو ان سب نے پیا
اس میں سے
سوائے
تھوڑے لوگوں کے
ان میں سے
چنانچہ جب
پار کر لیا اسے
اس نے
اور ان لوگوں نے جو
ایمان لائے
ساتھ اس کے
انہوں نے کہا
نہیں
طاقت
ہمارے لیے
آج
جالوت کےساتھ
اور اس کےفوجوں کےساتھ
کہا
ان لوگوں نے
جو یقین رکھتے تھے
یقیناً وہ
ملاقات کرنے والے ہیں
اللہ تعالیٰ سے
کتنی ہی
جماعتیں تھیں
تھوڑی
غالب آگئیں
جماعتوں پر
بڑی
ساتھ حکم کے
اللہ تعالیٰ کے
اور اللہ تعا لٰی
ساتھ ہے
صبر کرنے والوں کے
حافظ نذر احمد حفظه الله
فَلَمَّا
فَصَلَ
طَالُوْتُ
بِالْجُنُوْدِ
قَالَ
اِنَّ
اللّٰهَ
مُبْتَلِيْكُمْ
بِنَهَرٍ
فَمَنْ
شَرِبَ
مِنْهُ
فَلَيْسَ
مِنِّىْ
وَمَنْ
لَّمْ يَطْعَمْهُ
فَاِنَّهٗ
مِنِّىْٓ
اِلَّا
مَنِ
اغْتَرَفَ
غُرْفَةً
بِيَدِهٖ
فَشَرِبُوْا
مِنْهُ
اِلَّا
قَلِيْلًا
مِّنْهُمْ
فَلَمَّا
جَاوَزَهٗ
ھُوَ
وَالَّذِيْنَ
اٰمَنُوْا
مَعَهٗ
قَالُوْا
لَا طَاقَةَ
لَنَا
الْيَوْمَ
بِجَالُوْتَ
وَجُنُوْدِهٖ
قَالَ
الَّذِيْنَ
يَظُنُّوْنَ
اَنَّهُمْ
مُّلٰقُوا
اللّٰهِ
كَمْ
مِّنْ
فِئَةٍ
قَلِيْلَةٍ
غَلَبَتْ
فِئَةً
كَثِيْرَةً
بِاِذْنِ اللّٰهِ
وَاللّٰهُ
مَعَ
الصّٰبِرِيْنَ
پھر جب
باہر نکلا
طالوت
لشکر کے ساتھ
اس نے کہا
بیشک
اللہ
تمہاری آزمائش کرنے والا
ایک نہر سے
پس جس
پی لیا
اس سے
تو نہیں
مجھ سے
اور جس
اسے نہ چکھا
تو بیشک وہ
مجھ سے
سوائے
جو
چلو بھرلے
ایک چلو
اپنے ہاتھ سے
پھر انہوں نے پی لیا
اس سے
سوائے
چند ایک
ان سے
پس جب
اس کے پار ہوئے
وہ
اور وہ جو
ایمان لائے
اس کے ساتھ
انہوں نے کہا
نہیں طاقت
ہمارے لیے
آج
جالوت کے ساتھ
اور اس کا لشکر
کہا
جو لوگ
یقین رکھتے تھے
کہ وہ
ملنے والے
اللہ
بارہا
سے
جماعتیں
چھوٹی
غالب ہوئیں
جماعتیں
بڑی
اللہ کے حکم سے
اور اللہ
ساتھ
صبر کرنے والے
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]