اور مچھلی والے کو، جب وہ غصے سے بھرا ہوا چلا گیا، پس اس نے سمجھا کہ ہم اس پر گرفت تنگ نہ کریں گے تو اس نے اندھیروں میں پکارا کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، یقینا میں ظلم کرنے والوں سے ہو گیا ہوں۔[87]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَذَاالنُّوۡنِ
اِذۡ
ذَّہَبَ
مُغَاضِبًا
فَظَنَّ
اَنۡ
لَّنۡ
نَّقۡدِرَ
عَلَیۡہِ
فَنَادٰی
فِی الظُّلُمٰتِ
اَنۡ
لَّاۤ
اِلٰہَ
اِلَّاۤ
اَنۡتَ
سُبۡحٰنَکَ
اِنِّیۡ
کُنۡتُ
مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ
اور مچھلی والا
جب
وہ چلا گیا
غضب ناک ہوکر
تو اس نے سمجھ لیا
کہ
ہر گز نہیں
ہم قادر ہوں گے
اس پر
تو اس نے پکارا
اندھیروں میں
کہ
نہیں
کوئی الٰہ(برحق)
مگر
تو ہی
پاک ہے تو
بےشک میں
ہوں میں
ظالموں میں سے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَذَاالنُّوۡنِ
اِذۡ
ذَّہَبَ
مُغَاضِبًا
فَظَنَّ
اَنۡ
لَّنۡ
نَّقۡدِرَ
عَلَیۡہِ
فَنَادٰی
فِی الظُّلُمٰتِ
اَنۡ
لَّاۤاِلٰہَ
اِلَّاۤ
اَنۡتَ
سُبۡحٰنَکَ
اِنِّیۡ
کُنۡتُ
مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ
اور مچھلی والے کو
جب
چلا گیا تھا
غصے سے بھرا ہوا
پس اس نے سمجھا
یہ کہ
ہر گز نہ
ہم قابو پاسکیں گے
اس پر
تو اُس نے پکارا
اندھیروں میں
یہ کہ
نہیں کوئی معبود
سوائے
آپ کے
پا ک ہیں آپ
یقیناً میں ہی
تھا
ظالموں میں سے
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَ
ذَا النُّوْنِ
اِذْ
ذَّهَبَ
مُغَاضِبًا
فَظَنَّ
اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَيْهِ
فَنَادٰي
فِي الظُّلُمٰتِ
اَنْ لَّآ
اِلٰهَ
اِلَّآ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ
اِنِّىْ
كُنْتُ
مِنَ
الظّٰلِمِيْنَ
اور
ذوالنون (مچھلی والا)
جب
چلا وہ
غصہ میں بھر کر
پس گمان کیا اس نے
کہ ہم ہرگز تنگی نہ کریں گے
اس پر
تو اس نے پکارا
اندھیروں میں
کہ نہیں
کوئی معبود
تیرے سوا
تو پاک ہے
بیشک میں
میں تھا
سے
ظالم (جمع)
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
قَدَّرَ:وہ قوانین فطرت ہے جو اللہ تعالی نے اپنے علم و حکمت سے مقرر کر رکھے ہیں اور یہ مستحق الدلائل ہوتے ہیں اور قَدَّرَ ایسے قوانین پر مبنی اندازہ کو کہتے ہیں۔