اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجے مگر بلاشبہ وہ یقینا کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے اور ہم نے تمھارے بعض کو بعض کے لیے ایک آزمائش بنایا ہے۔ کیا تم صبر کرو گے؟ اور تیرا رب ہمیشہ سے سب کچھ دیکھنے والا ہے۔[20]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَمَاۤ
اَرۡسَلۡنَا
قَبۡلَکَ
مِنَ الۡمُرۡسَلِیۡنَ
اِلَّاۤ
اِنَّہُمۡ
لَیَاۡکُلُوۡنَ
الطَّعَامَ
وَیَمۡشُوۡنَ
فِی الۡاَسۡوَاقِ
وَجَعَلۡنَا
بَعۡضَکُمۡ
لِبَعۡضٍ
فِتۡنَۃً
اَتَصۡبِرُوۡنَ
وَکَانَ
رَبُّکَ
بَصِیۡرًا
اور نہیں
بھیجا ہم نے
آپ سے پہلے
رسولوں میں سے
مگر
بےشک وہ
البتہ کھاتے تھے
کھانا
اور وہ چلتے تھے
بازاروں میں
اور بنایا ہم نے
تمہارے بعض کو
بعض کے لیے
آزمائش
کیا تم صبر کرو گے
اور ہے
رب آپ کا
خوب دیکھنے والا
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَمَاۤ
اَرۡسَلۡنَا
قَبۡلَکَ
مِنَ الۡمُرۡسَلِیۡنَ
اِلَّاۤ
اِنَّہُمۡ
لَیَاۡکُلُوۡنَ
الطَّعَامَ
وَیَمۡشُوۡنَ
فِی الۡاَسۡوَاقِ
وَجَعَلۡنَا
بَعۡضَکُمۡ
لِبَعۡضٍ
فِتۡنَۃً
اَتَصۡبِرُوۡنَ
وَکَانَ
رَبُّکَ
بَصِیۡرًا
اور نہیں
بھیجے ہم نے
آپ سے پہلے
رسولوں میں سے
مگر
یقیناًوہ
وہ کھاتے تھے
کھانا
اور وہ چلتے تھے
بازاروں میں
اور بنایا ہم نے
تم میں سے بعض کو
بعض کے لیے
آزمائش کا ذریعہ
کیا تم صبر کرتے ہو
اور( ہمیشہ سے)ہے
رب آپ کا
سب کچھ دیکھنے والا
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَمَآ
اَرْسَلْنَا
قَبْلَكَ
مِنَ
الْمُرْسَلِيْنَ
اِلَّآ
اِنَّهُمْ
لَيَاْكُلُوْنَ
الطَّعَامَ
وَيَمْشُوْنَ
فِي الْاَسْوَاقِ
وَجَعَلْنَا
بَعْضَكُمْ
لِبَعْضٍ
فِتْنَةً
اَتَصْبِرُوْنَ
وَكَانَ
رَبُّكَ
بَصِيْرًا
اور نہیں
بھیجے ہم نے
تم سے پہلے
سے
رسول (جمع)
مگر
وہ یقیناً
البتہ کھاتے تھے
کھانا
اور چلتے پھرتے تھے
بازاروں میں
اور ہم نے کیا (بنایا)
تم میں سے بعض کو (کسی کو)
بعض (دوسروں کے لیے)
آزمائش
کیا تم صبرو کرو گے
اور ہے
تمہارا رب
دیکھنے والا
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
فَتَنَ:بذات خود سخت مگر دل کشی سے ہوتی ہے۔ یعنی بالعموم ایسی چیزوں سے ہوتی ہے جن سے انسان کا دلی لگاؤ ہو۔ دوسرے تو کیا بسا اوقات خود مفتون کو بھی اس آزمائش کا پتہ نہیں چلتا کہ وہ اس میں مبتلا ہے۔