اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نبی کے گھروں میں مت داخل ہو مگر یہ کہ تمھیں کھانے کی طرف اجازت دی جائے، اس حال میں کہ اس کے پکنے کا انتظار کرنے والے نہ ہو اور لیکن جب تمھیں بلایا جائے تو داخل ہو جائو، پھر جب کھا چکو تو منتشر ہو جاؤ اور نہ (بیٹھے رہو) اس حال میں کہ بات میں دل لگانے والے ہو۔ بے شک یہ بات ہمیشہ سے نبی کو تکلیف دیتی ہے، تو وہ تم سے شرم کرتا ہے اور اللہ حق سے شرم نہیں کرتا اور جب تم ان سے کوئی سامان مانگو تو ان سے پردے کے پیچھے سے مانگو، یہ تمھارے دلوں اور ان کے دلوں کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے اور تمھارا کبھی بھی حق نہیں کہ تم اللہ کے رسول کو تکلیف دو اور نہ یہ کہ اس کے بعد کبھی اس کی بیویوں سے نکاح کرو۔ بے شک یہ بات ہمیشہ سے اللہ کے نزدیک بہت بڑی ہے۔[53]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ
اٰمَنُوۡا
لَاتَدۡخُلُوۡا
بُیُوۡتَ
النَّبِیِّ
اِلَّاۤ
اَنۡ
یُّؤۡذَنَ
لَکُمۡ
اِلٰی طَعَامٍ
غَیۡرَ
نٰظِرِیۡنَ
اِنٰىہُ
وَلٰکِنۡ
اِذَا
دُعِیۡتُمۡ
فَادۡخُلُوۡا
فَاِذَا
طَعِمۡتُمۡ
فَانۡتَشِرُوۡا
وَلَا
مُسۡتَاۡنِسِیۡنَ
لِحَدِیۡثٍ
اِنَّ
ذٰلِکُمۡ
کَانَ
یُؤۡذِی
النَّبِیَّ
فَیَسۡتَحۡیٖ
مِنۡکُمۡ
وَاللّٰہُ
لَایَسۡتَحۡیٖ
مِنَ الۡحَقِّ
وَاِذَا
سَاَلۡتُمُوۡہُنَّ
مَتَاعًا
فَسۡئَلُوۡہُنَّ
مِنۡ وَّرَآءِ
حِجَابٍ
ذٰلِکُمۡ
اَطۡہَرُ
لِقُلُوۡبِکُمۡ
وَقُلُوۡبِہِنَّ
وَمَا
کَانَ
لَکُمۡ
اَنۡ
تُؤۡذُوۡا
رَسُوۡلَ اللّٰہِ
وَلَاۤ
اَنۡ
تَنۡکِحُوۡۤا
اَزۡوَاجَہٗ
مِنۡۢ بَعۡدِہٖۤ
اَبَدًا
اِنَّ
ذٰلِکُمۡ
کَانَ
عِنۡدَ
اللّٰہِ
عَظِیۡمًا
اے لوگو جو
ایمان لائے ہو
نہ تم داخل ہو
گھروں میں
نبی کے
مگر
یہ کہ
اجازت دی جائے
تمہیں
طرف کھانے کے
نہ
انتظار کرنے والے ہو
اس کی تیاری کا
اور لیکن
جب
بلائے جاؤ تم
تو داخل ہوجاؤ
پھر جب
کھانا کھا لو تم
تو منتشر ہوجاؤ
اور نہ ہو
دل لگانے والے
باتوں کے لیے
بےشک
یہ
ہے
ایذا دیتا
نبی کو
تو وہ شرماتے ہیں
تم سے
اور اللہ
نہیں شرماتا
حق سے
اور جب
سوال کرو تم ان سے
کسی چیز کا
تو سوال کرو ان سے
پیچھے سے
پردے کے
یہ بات
زیادہ پاکیزہ ہے
تمہارے دلوں کے لیے
اور ان کے دلوں کے لیے
اور نہیں
ہے (مناسب)
تمہارے لیے
کہ
تم ایذا دو
اللہ کے رسول کو
اور نہ
یہ کہ
تم نکاح کرو
اس کی بیویوں سے
بعد اس کے
کبھی بھی
بےشک
یہ(بات)
ہے
نزدیک
اللہ کے
بہت بڑی
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
یٰۤاَیُّہَا
الَّذِیۡنَ
اٰمَنُوۡا
لَاتَدۡخُلُوۡا
بُیُوۡتَ
النَّبِیِّ
اِلَّاۤ
اَنۡ
یُّؤۡذَنَ
لَکُمۡ
اِلٰی طَعَامٍ
غَیۡرَ
نٰظِرِیۡنَ
اِنٰىہُ
وَلٰکِنۡ
اِذَا
دُعِیۡتُمۡ
فَادۡخُلُوۡا
فَاِذَا
طَعِمۡتُمۡ
فَانۡتَشِرُوۡا
وَلَا
مُسۡتَاۡنِسِیۡنَ
لِحَدِیۡثٍ
اِنَّ
ذٰلِکُمۡ
کَانَ
یُؤۡذِی
النَّبِیَّ
فَیَسۡتَحۡیٖ
مِنۡکُمۡ
وَاللّٰہُ
لَایَسۡتَحۡیٖ
مِنَ الۡحَقِّ
وَاِذَا
سَاَلۡتُمُوۡہُنَّ
مَتَاعًا
فَسۡئَلُوۡہُنَّ
مِنۡ وَّرَآءِ
حِجَابٍ
ذٰلِکُمۡ
اَطۡہَرُ
لِقُلُوۡبِکُمۡ
وَقُلُوۡبِہِنَّ
وَمَا
کَانَ
لَکُمۡ
اَنۡ
تُؤۡذُوۡا
رَسُوۡلَ اللّٰہِ
وَلَاۤ
اَنۡ
تَنۡکِحُوۡۤا
اَزۡوَاجَہٗ
مِنۡۢ بَعۡدِہٖۤ
اَبَدًا
اِنَّ
ذٰلِکُمۡ
کَانَ
عِنۡدَ
اللّٰہِ
عَظِیۡمًا
اے لوگو
جو
ایمان لائے ہو
نہ تم داخل ہو
گھروں میں
نبی کے
مگر
یہ کہ
اجازت دی جائے
تمہیں
کھانے کے لیے
نہ ہو
انتظار کر نے والے
اس کے تیار ہونے کا
اور لیکن
جب
تمہیں بلایا جائے
تو اندر آ جاؤ
پھر جب
تم کھا چکو
تو منتشر ہو جاؤ
اور نہ
دل لگانے والے ہو
باتوں میں
یقیناً
یہ بات
ہے
اذیت دیتی
نبی کو
پھر وہ شرم کرتا ہے
تم سے
اور اللہ تعالیٰ
نہیں شرماتا
حق بات کہنے سے
اور جب
مانگو تم ان سے
کوئی سامان
تو مانگو ان سے
پیچھے سے
پردے کے
یہ
پاکیزہ تر ہے
تمہارے دلوں کے لیے
اور ان کے دلوں کے لیے
اور نہیں
ہے
تمہارے لیے
یہ کہ
تم اذیت دو
رسول اللہ کو
اور نہ ہی
یہ کہ
تم نکاح کر و
اس کی بیویوں سے
اس کے بعد
کبھی بھی
یقیناً
یہ
۔ (ہمیشہ سے) ہے
نزدیک
اللہ تعالیٰ کے
بہت بڑا
حافظ نذر احمد حفظه الله
يٰٓاَيُّهَا
الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا
لَا تَدْخُلُوْا
بُيُوْتَ
النَّبِيِّ
اِلَّآ
اَنْ
يُّؤْذَنَ
لَكُمْ
اِلٰى
طَعَامٍ
غَيْرَ نٰظِرِيْنَ
اِنٰىهُ ۙ
وَلٰكِنْ
اِذَا
دُعِيْتُمْ
فَادْخُلُوْا
فَاِذَا
طَعِمْتُمْ
فَانْتَشِرُوْا
وَلَا مُسْتَاْنِسِيْنَ
لِحَدِيْثٍ ۭ
اِنَّ
ذٰلِكُمْ
كَانَ يُؤْذِي
النَّبِيَّ
فَيَسْتَحْيٖ
مِنْكُمْ ۡ
وَاللّٰهُ
لَا يَسْتَحْيٖ
مِنَ الْحَقِّ ۭ
وَاِذَا
سَاَلْتُمُوْهُنَّ
مَتَاعًا
فَسْئَلُوْهُنَّ
مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ ۭ
ذٰلِكُمْ
اَطْهَرُ
لِقُلُوْبِكُمْ
وَقُلُوْبِهِنَّ ۭ
وَمَا كَانَ
لَكُمْ
اَنْ تُؤْذُوْا
رَسُوْلَ اللّٰهِ
وَلَآ
اَنْ تَنْكِحُوْٓا
اَزْوَاجَهٗ
مِنْۢ بَعْدِهٖٓ
اَبَدًا ۭ
اِنَّ
ذٰلِكُمْ
كَانَ
عِنْدَ اللّٰهِ
عَظِيْمًا
اے
ایمان والو
تم نہ داخل ہو
گھر (جمع)
نبی
سوائے
یہ کہ
اجازت دی جائے
تمہارے لیے
طرف (لیے)
کھانا
نہ راہ تکو
اس کا پکنا
اور لیکن
جب
تمہیں بلایا جائے
تو تم داخل ہو
پھر جب
تم کھالو
تو تم منتشر ہوجایا کرو
اور نہ جی لگا کر بیٹھے رہو
باتوں کے لیے
بیشک
یہ تمہاری بات
ایذا دیتی ہے
نبی
پس وہ شرماتے ہیں
تم سے
اور اللہ
نہیں شرماتا
حق (بات) سے
اور جب
تم ان سے مانگو
کوئی شے
تو ان سے مانگو
پردہ کے پیچھے سے
تمہاری یہ بات
زیادہ پاکیزگی
تمہارے دلوں کے لیے
اور ان کے دل
اور (جائز) نہیں
تمہارے لیے
کہ تم ایذا دو
اللہ کا رسول
اور نہ
یہ کہ تم نکاح کرو
اس کی بیبیاں
ان کے بعد
کبھی
بیشک
تمہاری یہ بات
ہے
اللہ کے نزدیک
بڑا
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]