اور انھوںنے اللہ کی قدر نہیں کی جو اس کی قدر کا حق ہے، حالانکہ زمین ساری قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس سے جو وہ شریک بنا رہے ہیں۔[67]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَمَا
قَدَرُوا
اللّٰہَ
حَقَّ
قَدۡرِہٖ
وَالۡاَرۡضُ
جَمِیۡعًا
قَبۡضَتُہٗ
یَوۡمَ
الۡقِیٰمَۃِ
وَالسَّمٰوٰتُ
مَطۡوِیّٰتٌۢ
بِیَمِیۡنِہٖ
سُبۡحٰنَہٗ
وَتَعٰلٰی
عَمَّا
یُشۡرِکُوۡنَ
اور نہیں
انہوں نے قدر کی
اللہ کی
جیسے حق تھا
اس کی قدر کا
اور زمین
ساری کی ساری
اس کی مٹھی میں ہوگی
دن
قیامت کے
اور آسمان
لپیٹے ہوئے ہوں گے
اس کے دائیں ہاتھ میں
پاک ہے وہ
اور وہ بلند تر ہے
اس سے جو
وہ شریک ٹھہراتے ہیں
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَمَا
قَدَرُوا
اللّٰہَ
حَقَّ
قَدۡرِہٖ
وَالۡاَرۡضُ
جَمِیۡعًا
قَبۡضَتُہٗ
یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ
وَالسَّمٰوٰتُ
مَطۡوِیّٰتٌۢ
بِیَمِیۡنِہٖ
سُبۡحٰنَہٗ
وَتَعٰلٰی
عَمَّا
یُشۡرِکُوۡنَ
اورنہیں
انہوں نے قدرکی
اللہ تعالیٰ کی
حق ہے
اس کی قدرکا
حالانکہ زمین
ساری کی ساری
اس کی مٹھی میں ہوگی
قیامت کے دن
اورآسمان
لپٹے ہوئے ہوں گے
اس کے دائیں ہاتھ میں
پاک ہے وہ
اوربہت بلندہے وہ
اس سے جو
وہ شریک ٹھہراتے ہیں
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَمَا قَدَرُوا
اللّٰهَ
حَقَّ
قَدْرِهٖ ڰ
وَالْاَرْضُ
جَمِيْعًا
قَبْضَتُهٗ
يَوْمَ الْقِيٰمَةِ
وَالسَّمٰوٰتُ
مَطْوِيّٰتٌۢ
بِيَمِيْنِهٖ ۭ
سُبْحٰنَهٗ
وَتَعٰلٰى
عَمَّا
يُشْرِكُوْنَ
اور انہوں نے قدر شناسی نہ کی
اللہ
حق
اس کی قدر شناسی
اور زمین
تمام
اس کی مٹھی
روز قیامت
اور تمام آسمان
لپٹے ہوئے
اس کے دائیں ہاتھ میں
وہ پاک ہے
اور برتر
اس سے جو
وہ شریک کرتے ہیں
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
قَدَّرَ:وہ قوانین فطرت ہے جو اللہ تعالی نے اپنے علم و حکمت سے مقرر کر رکھے ہیں اور یہ مستحق الدلائل ہوتے ہیں اور قَدَّرَ ایسے قوانین پر مبنی اندازہ کو کہتے ہیں۔
قَدَّرَ:وہ قوانین فطرت ہے جو اللہ تعالی نے اپنے علم و حکمت سے مقرر کر رکھے ہیں اور یہ مستحق الدلائل ہوتے ہیں اور قَدَّرَ ایسے قوانین پر مبنی اندازہ کو کہتے ہیں۔