وہ کہیں گے اے ہمارے رب! تو نے ہمیں دو دفعہ موت دی اور تو نے ہمیں دو دفعہ زندہ کیا، سو ہم نے اپنے گناہوں کا اقرار کیا، تو کیا نکلنے کا کوئی راستہ ہے؟[11]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
قَالُوۡا
رَبَّنَاۤ
اَمَتَّنَا
اثۡنَتَیۡنِ
وَ اَحۡیَیۡتَنَا
اثۡنَتَیۡنِ
فَاعۡتَرَفۡنَا
بِذُنُوۡبِنَا
فَہَلۡ
اِلٰی خُرُوۡجٍ
مِّنۡ سَبِیۡلٍ
وہ کہیں گے
اے ہمارے رب
موت دی تو نے ہمیں
دو بار
اور زندگی بخشی تو نے ہمیں
دو بار
تو اعتراف کرلیا ہم نے
اپنے گناہوں کا
تو کیا ہے
طرف نکلنے کے
کوئی راستہ
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
قَالُوۡا
رَبَّنَاۤ
اَمَتَّنَا
اثۡنَتَیۡنِ
وَ اَحۡیَیۡتَنَا
اثۡنَتَیۡنِ
فَاعۡتَرَفۡنَا
بِذُنُوۡبِنَا
فَہَلۡ
اِلٰی خُرُوۡجٍ
مِّنۡ سَبِیۡلٍ
وہ کہیں گے
اے ہمارے رب
تونے موت دی ہمیں
دودفعہ
اورتونے زندگی دی ہمیں
دودفعہ
سوہم نے اعتراف کیا
اپنے گناہوں کا
پھرکیا
نکلنے کا
کوئی راستہ ہے
حافظ نذر احمد حفظه الله
قَالُوْا
رَبَّنَآ
اَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ
وَاَحْيَيْتَنَا
اثْنَتَيْنِ
فَاعْتَرَفْنَا
بِذُنُوْبِنَا
فَهَلْ
اِلٰى خُرُوْجٍ
مِّنْ سَبِيْلٍ
وہ کہیں گے
اے ہمارے رب
تو نے ہمیں مردہ رکھا۔ دو بار
اور زندگی بخشی ہمیں
دو بار
پس ہم نے اعتراف کرلیا
اپنے گناہوں کا
تو کیا
طرف ۔ نکلنا
کوئی سبیل
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]