اور ان کی بات اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ انھوں نے کہا اے ہمارے رب! ہمیں ہمارے گناہ بخش دے اور ہمارے کام میں ہماری زیادتی کو بھی اور ہمارے قدم ثابت رکھ اور کافر لوگوں پر ہماری مدد فرما۔[147]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَمَا
کَانَ
قَوۡلَہُمۡ
اِلَّاۤ
اَنۡ
قَالُوۡا
رَبَّنَا
اغۡفِرۡلَنَا
ذُنُوۡبَنَا
وَ اِسۡرَافَنَا
فِیۡۤ اَمۡرِنَا
وَثَبِّتۡ
اَقۡدَامَنَا
وَانۡصُرۡنَا
عَلَی الۡقَوۡمِ
الۡکٰفِرِیۡنَ
اور نہ
تھی
بات ان کی
مگر
یہ کہ
انہوں نے کہا
اے ہمارے رب
بخش دے ہمارے لیے
گناہ ہمارے
اور زیادتیاں ہماری
ہمارے معاملے میں
اور جما دے
ہمارے قدموں کو
اور مدد فرما ہماری
اوپر ان لوگوں کے
جو کافر ہیں
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَمَا
کَانَ
قَوۡلَہُمۡ
اِلَّاۤ
اَنۡ
قَالُوۡا
رَبَّنَا
اغۡفِرۡلَنَا
ذُنُوۡبَنَا
وَ اِسۡرَافَنَا
فِیۡۤ اَمۡرِنَا
وَثَبِّتۡ
اَقۡدَامَنَا
وَانۡصُرۡنَا
عَلَی الۡقَوۡمِ
الۡکٰفِرِیۡنَ
اور نہیں
تھی
بات ان کی
مگر
یہ کہ
انہوں نے کہا
اے ہمارے رب
آپ بخش دیجئے ہمارے لیے
ہمارے گناہوں کو
اور ہماری زیادتی کو
ہمارے کام میں
اور آپ ثابت رکھیں
ہمارے قدموں کو
اور آپ مدد فرمائیں ہماری
قوم کے مقابلے میں
کافر
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَمَا كَانَ
قَوْلَھُمْ
اِلَّآ
اَنْ
قَالُوْا
رَبَّنَا
اغْفِرْ لَنَا
ذُنُوْبَنَا
وَ اِسْرَافَنَا
فِيْٓ اَمْرِنَا
وَثَبِّتْ
اَقْدَامَنَا
وَانْصُرْنَا
عَلَي
الْقَوْمِ
الْكٰفِرِيْنَ
اور نہ تھا
ان کا کہنا
سوائے
کہ
انہوں نے دعا کی
اے ہمارے رب
بخشدے ہم کو
ہمارے گناہ
اور ہماری زیادتی
ہمارے کام میں
اور ثابت رکھ
ہمارے قدم
اور ہماری مدد فرما
پر
قوم
کافر (جمع)
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
قَدَّمَ:قَدَّمَ اور اَسْلَفَ میں وہی فرق ہے جو ارتفاع اور عمق میں ہے اگر نیچے کے کنارے پر ہوں تو اسی راسی فاصلہ کو بلندی کو کہتے ہیں اوپر کے کنارے پر کھڑے ہوں تو وہی فاصلہ گہرائ یہ عمق کہلاتا ہے وہی بات یا کام جو قدّم کا مفہوم سے موقع کے لحاظ سے وہی اسلف بن جاتا ہے ۔