وہ لوگ جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنے پہلوئوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور و فکر کرتے ہیں، اے ہمارے رب! تو نے یہ بے مقصد پیدا نہیں کیا، تو پاک ہے، سو ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔[191]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
الَّذِیۡنَ
یَذۡکُرُوۡنَ
اللّٰہَ
قِیٰمًا
وَّ قُعُوۡدًا
وَّ عَلٰی جُنُوۡبِہِمۡ
وَ یَتَفَکَّرُوۡنَ
فِیۡ خَلۡقِ
السَّمٰوٰتِ
وَ الۡاَرۡضِ
رَبَّنَا
مَا
خَلَقۡتَ
ہٰذَا
بَاطِلًا
سُبۡحٰنَکَ
فَقِنَا
عَذَابَ
النَّارِ
وہ جو
یاد کرتے ہیں
اللہ کو
کھڑے
اور بیٹھے
اور اپنے پہلوؤں پر
اور وہ غوروفکر کرتے ہیں
تخلیق میں
آسمانوں
اور زمین کی
اے ہمارے رب
نہیں
پیدا کیا تو نے
یہ (سب)
بے مقصد
پاک ہے تو
پس بچا ہمیں
عذاب سے
آگ کے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
الَّذِیۡنَ
یَذۡکُرُوۡنَ
اللّٰہَ
قِیٰمًا
وَّ قُعُوۡدًا
وَّ عَلٰی جُنُوۡبِہِمۡ
وَ یَتَفَکَّرُوۡنَ
فِیۡ خَلۡقِ
السَّمٰوٰتِ
وَ الۡاَرۡضِ
رَبَّنَا
مَا
خَلَقۡتَ
ہٰذَا
بَاطِلًا
سُبۡحٰنَکَ
فَقِنَا
عَذَابَ
النَّارِ
وہ لوگ جو
ذکر کرتے ہیں
اللہ تعالیٰ کا
کھڑے ہوئے
اور بیٹھے ہوئے
اور اپنے پہلوؤں پر
اور وہ غوروفکر کرتے ہیں
پیدائش میں
آسمانوں کی
اورزمین کی
اے ہمارے رب
نہیں
بنایا تو نے
یہ
بے مقصد
پاک ہیں آپ
سوتُو بچا لے ہمیں
عذاب سے
آگ کے
حافظ نذر احمد حفظه الله
الَّذِيْنَ
يَذْكُرُوْنَ
اللّٰهَ
قِيٰمًا
وَّقُعُوْدًا
وَّعَلٰي
جُنُوْبِھِمْ
وَيَتَفَكَّرُوْنَ
فِيْ خَلْقِ
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضِ
رَبَّنَا
مَا
خَلَقْتَ
هٰذَا
بَاطِلًا
سُبْحٰنَكَ
فَقِنَا
عَذَابَ
النَّارِ
جو لوگ
یاد کرتے ہیں
اللہ
کھڑے
اور بیٹھے
اور پر
اپنی کروٹیں
اور وہ غور کرتے ہیں
پیدائش میں
آسمانوں
اور زمین
اے ہمارے رب
نہیں
تونے پیدا کیا
یہ
بےفائدہ
تو پاک ہے
تو ہمیں بچا لے
عذاب
آگ (دوزخ)
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]