اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انھیں ان کی عدت کے وقت طلاق دو اور عدت کو گنو اور اللہ سے ڈرو جو تمھارا رب ہے، نہ تم انھیں ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ نکلیں مگر یہ کہ کوئی کھلی بے حیائی (عمل میں) لائیں۔ اور یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھے تو یقینا اس نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ تو نہیں جانتا شاید اللہ اس کے بعد کوئی نئی بات پیدا کر دے۔[1]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
یٰۤاَیُّہَا
النَّبِیُّ
اِذَا
طَلَّقۡتُمُ
النِّسَآءَ
فَطَلِّقُوۡہُنَّ
لِعِدَّتِہِنَّ
وَاَحۡصُوا
الۡعِدَّۃَ
وَاتَّقُوا
اللّٰہَ
رَبَّکُمۡ
لَاتُخۡرِجُوۡہُنَّ
مِنۡۢ بُیُوۡتِہِنَّ
وَلَا
یَخۡرُجۡنَ
اِلَّاۤ
اَنۡ
یَّاۡتِیۡنَ
بِفَاحِشَۃٍ
مُّبَیِّنَۃٍ
وَتِلۡکَ
حُدُوۡدُ
اللّٰہِ
وَمَنۡ
یَّتَعَدَّ
حُدُوۡدَ
اللّٰہِ
فَقَدۡ
ظَلَمَ
نَفۡسَہٗ
لَاتَدۡرِیۡ
لَعَلَّ
اللّٰہَ
یُحۡدِثُ
بَعۡدَ
ذٰلِکَ
اَمۡرًا
اے
نبی
جب
طلاق دو تم
عورتوں کو
تو طلاق دو انہیں
ان کی عدت کے لیے
اور شمار کرو
عدت کو
اور ڈرو
اللہ سے
جو رب ہے تمہارا
نہ تم نکالو انہیں
ان کے گھروں سے
اور نہ
وہ نکلیں
مگر
یہ کہ
وہ آئیں
بےحیائی کو
کھلی
اور یہ
حدود ہیں
اللہ کی
اور جو کوئی
تجاوز کرے گا
حدود سے
اللہ کی
تو تحقیق
اس نے ظلم کیا
اپنی جان پر
نہیں تم جانتے
شاید کہ
اللہ
وہ پیدا کر دے
بعد
اس کے
کوئی صورت
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
یٰۤاَیُّہَا
النَّبِیُّ
اِذَا
طَلَّقۡتُمُ
النِّسَآءَ
فَطَلِّقُوۡہُنَّ
لِعِدَّتِہِنَّ
وَاَحۡصُوا
الۡعِدَّۃَ
وَاتَّقُوا
اللّٰہَ
رَبَّکُمۡ
لَاتُخۡرِجُوۡہُنَّ
مِنۡۢ بُیُوۡتِہِنَّ
وَلَا
یَخۡرُجۡنَ
اِلَّاۤ
اَنۡ
یَّاۡتِیۡنَ
بِفَاحِشَۃٍ
مُّبَیِّنَۃٍ
وَتِلۡکَ
حُدُوۡدُ
اللّٰہِ
وَمَنۡ
یَّتَعَدَّ
حُدُوۡدَ اللّٰہِ
فَقَدۡ
ظَلَمَ
نَفۡسَہٗ
لَا
تَدۡرِیۡ
لَعَلَّ
اللّٰہَ
یُحۡدِثُ
بَعۡدَ
ذٰلِکَ
اَمۡرًا
اے
نبی
جب
تم طلاق دو
عورتوں کو
توطلاق دوان کو
ان کی عدت کےلیے
اور شمارکیاکرو
عدت کو
اوردڑو
اللہ تعالیٰ سے
رب ہےتمہارا
نہ نکالو ان کو
ان کےگھروں سے
اورنہ ہی
وہ نکلیں
مگر
یہ کہ
وہ کریں
بےحیائی
کھلی
اوریہ
حدودہیں
اللہ تعالیٰ کی
اور جو
آگےبڑھے
اللہ تعالیٰ کی حدود سے
تو بلاشبہ
اس نے ظلم کیا
اپنے آپ پر
نہیں
آپ جانتے
شایدکہ
اللہ تعالیٰ
پیداکردے
بعد
اس کے
کوئی(نئی)بات
حافظ نذر احمد حفظه الله
يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ
اِذَا طَلَّقْتُمُ
النِّسَآءَ
فَطَلِّقُوْهُنَّ
لِعِدَّتِهِنَّ
وَاَحْصُوا
الْعِدَّةَ
وَاتَّقُوا اللّٰهَ
رَبَّكُمْ
لَا تُخْرِجُوْهُنَّ
مِنْۢ بُيُوْتِهِنَّ
وَلَا يَخْرُجْنَ
اِلَّآ
اَنْ يَّاْتِيْنَ
بِفَاحِشَةٍ
مُّبَيِّنَةٍ
وَتِلْكَ
حُدُوْدُ اللّٰهِ
وَمَنْ يَّتَعَدَّ
حُدُوْدَ اللّٰهِ
فَقَدْ
ظَلَمَ نَفْسَهٗ
لَا تَدْرِيْ
لَعَلَّ اللّٰهَ
يُحْدِثُ
بَعْدَ
ذٰلِكَ
اَمْرًا
اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
جب طلاق دو تم
عورتوں کو
تو طلاق دو ان کو
ان کی عدت کے لیے
اور شمار کرو۔ گن لو
عدت کو
اور ڈرو اللہ سے
جو رب ہے تمہارا
نہ تم نکالو ان کو
ان کے گھروں سے
اور نہ وہ نکلیں
مگر
یہ کہ وہ آئیں
بےحیائی کو
کھلی
اور یہ
اللہ کی حدود ہیں
اور جو تجاوز کرے گا
اللہ کی حدود سے
تو تحقیق
اس نے ظلم کیا اپنی جان پر
نہیں تم جانتے
شاید کہ اللہ تعالیٰ
پیدا کردے
بعد
اس کے
کوئی صورت
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
طلاق:الطلاق اور تسریح دونوں لفظ عورت کی جدائی یا عام مفہوم میں طلاق کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ الطلاق میں تخلیہ ضروری اور ارسال جزوی شرط ہے جب کے تسریخ میں لازمی جز ارسال ہے اور وہ بھی آسانی وسہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے۔
طلاق:الطلاق اور تسریح دونوں لفظ عورت کی جدائی یا عام مفہوم میں طلاق کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ الطلاق میں تخلیہ ضروری اور ارسال جزوی شرط ہے جب کے تسریخ میں لازمی جز ارسال ہے اور وہ بھی آسانی وسہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے۔