اور اگر ہم آپ پر کاغذ میں لکھی ہوئی کوئی چیز اتارتے، پھر وہ اسے اپنے ہاتھوں سے چھوتے تو یقینا وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، یہی کہتے کہ یہ تو کھلے جادو کے سوا کچھ نہیں۔[7]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَلَوۡ
نَزَّلۡنَا
عَلَیۡکَ
کِتٰبًا
فِیۡ قِرۡطَاسٍ
فَلَمَسُوۡہُ
بِاَیۡدِیۡہِمۡ
لَقَالَ
الَّذِیۡنَ
کَفَرُوۡۤا
اِنۡ
ہٰذَاۤ
اِلَّا
سِحۡرٌ
مُّبِیۡنٌ
اور اگر
نازل کرتے ہم
آپ پر
ایک کتاب
کاغذ میں
پھر وہ چھولیتے اسے
اپنے ہاتھوں سے
البتہ کہتے
وہ جنہوں نے
کفر کیا
نہیں ہے
یہ
مگر
جادو
کھلم کھلا /واضح
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَلَوۡ
نَزَّلۡنَا
عَلَیۡکَ
کِتٰبًا
فِیۡ قِرۡطَاسٍ
فَلَمَسُوۡہُ
بِاَیۡدِیۡہِمۡ
لَقَالَ
الَّذِیۡنَ
کَفَرُوۡۤا
اِنۡ
ہٰذَاۤ
اِلَّا
سِحۡرٌ
مُّبِیۡنٌ
اور اگر
نازل کرتے ہم
آپ پر
لکھی ہوئی بات
کاغذ میں
پس وہ چھو لیتے اُسے
ساتھ اپنے ہاتھوں کے
ضرور کہتے
وہ لوگ
جنہوں نے کفر کیا
نہیں
یہ
سوائے
جادو کے
کھلا
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَلَوْ نَزَّلْنَا
عَلَيْكَ
كِتٰبًا
فِيْ
قِرْطَاسٍ
فَلَمَسُوْهُ
بِاَيْدِيْهِمْ
لَقَالَ
الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا
اِنْ هٰذَآ
اِلَّا
سِحْرٌ
مُّبِيْنٌ
اور اگر ہم اتاریں
تم پر
کچھ لکھا ہوا
میں
کاغذ
پھر اسے چھو لیں
اپنے ہاتھوں سے
البتہ کہیں گے
جن لوگوں نے کفر کیا (کافر)
نہیں یہ
مگر
جادو
کھلا
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]