اور یتیم کے مال کے قریب نہ جائو، مگر اس طریقے سے جو سب سے اچھا ہو، یہاں تک کہ وہ اپنی پختگی کو پہنچ جائے اور ماپ اور تول انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ ہم کسی شخص کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کی طاقت کے مطابق اور جب بات کرو تو انصاف کرو خواہ رشتہ دار ہو اور اللہ کے عہد کو پورا کرو۔ یہ ہے جس کا تاکیدی حکم اس نے تمھیں دیا ہے، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔[152]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَلَا
تَقۡرَبُوۡا
مَالَ
الۡیَتِیۡمِ
اِلَّا
بِالَّتِیۡ
ہِیَ
اَحۡسَنُ
حَتّٰی
یَبۡلُغَ
اَشُدَّہٗ
وَاَوۡفُوا
الۡکَیۡلَ
وَالۡمِیۡزَانَ
بِالۡقِسۡطِ
لَانُکَلِّفُ
نَفۡسًا
اِلَّا
وُسۡعَہَا
وَاِذَا
قُلۡتُمۡ
فَاعۡدِلُوۡا
وَلَوۡ
کَانَ
ذَاقُرۡبٰی
وَبِعَہۡدِ
اللّٰہِ
اَوۡفُوۡا
ذٰلِکُمۡ
وَصّٰکُمۡ
بِہٖ
لَعَلَّکُمۡ
تَذَکَّرُوۡنَ
اور نہ
تم قریب جاؤ
مال
یتیم کے
مگر
ساتھ (اس طریقے کے)جو
وہ
اچھا ہے
یہاں تک کہ
وہ پہنچ پائے
اپنی جوانی کو
اور پورا کرو
ناپ
اور تول کو
ساتھ انصاف کے
نہیں ہم تکلیف دیتے
کسی نفس کو
مگر
اس کی وسعت کے مطابق
اور جب
بات کرو تم
تو عدل کرو
اگرچہ
ہو وہ
قریبی رشتے دار
اور عہد کو
اللہ کے
پورا کرو
یہ وہ ہے
اس نے تاکید کی ہے تمہیں
جس کی
تاکہ تم
تم نصیحت پکڑو
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَلَا
تَقۡرَبُوۡا
مَالَ
الۡیَتِیۡمِ
اِلَّا
بِالَّتِیۡ
ہِیَ
اَحۡسَنُ
حَتّٰی
یَبۡلُغَ
اَشُدَّہٗ
وَاَوۡفُوا
الۡکَیۡلَ
وَالۡمِیۡزَانَ
بِالۡقِسۡطِ
لَانُکَلِّفُ
نَفۡسًا
اِلَّا
وُسۡعَہَا
وَاِذَا
قُلۡتُمۡ
فَاعۡدِلُوۡا
وَلَوۡ
کَانَ
ذَاقُرۡبٰی
وَبِعَہۡدِ اللّٰہِ
اَوۡفُوۡا
ذٰلِکُمۡ
وَصّٰکُمۡ
بِہٖ
لَعَلَّکُمۡ
تَذَکَّرُوۡنَ
اور نہ
تم قریب جاؤ
مال کے
یتیم کے
مگر
ساتھ اس کے جو
وہ ہو
سب سے بہتر
یہاں تک کہ
وہ پہنچ جائے
اپنی پختگی کو
اور تم پورا کرو
ناپ
اور تول
ساتھ انصاف کے
نہیں ہم تکلیف دیتے
کسی نفس کو
مگر
اس کی طاقت کے مطابق
اور جب
بات کرو تم
تو انصاف کرو
اور خواہ
ہو
کوئی رشتہ دار
اور اللہ تعالیٰ کے عہد کو
تم پورا کرو
یہ
اُس نےتاکیدی حکم دیا ہے تمہیں
جن کا
تا کہ تم
تم نصحیت قبول کرو
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَلَا تَقْرَبُوْا
مَالَ
الْيَتِيْمِ
اِلَّا
بِالَّتِيْ
هِىَ
اَحْسَنُ
حَتّٰي
يَبْلُغَ
اَشُدَّهٗ
وَاَوْفُوا
الْكَيْلَ
وَالْمِيْزَانَ
بِالْقِسْطِ
لَا نُكَلِّفُ
نَفْسًا
اِلَّا
وُسْعَهَا
وَاِذَا
قُلْتُمْ
فَاعْدِلُوْا
وَلَوْ كَانَ
ذَا قُرْبٰي
وَ
بِعَهْدِ
اللّٰهِ
اَوْفُوْا
ذٰلِكُمْ
وَصّٰىكُمْ
بِهٖ
لَعَلَّكُمْ
تَذَكَّرُوْنَ
اور قریب نہ جاؤ
مال
یتیم
مگر
ایسے جو
وہ
بہترین
یہاں تک کہ
پہنچ جائے
اپنی جوانی
اور پورا کرو
ماپ
اور تول
انصاف کے ساتھ
ہم تکلیف نہیں دیتے
کسی کو
مگر
اس کی وسعت (مقدور)
اور جب
تم بات کرو
تو انصاف کرو
خواہ ہو
رشتہ دار
اور
عہد
اللہ
پورا کرو
یہ
اس نے تمہیں حکم دیا
اس کا
تا کہ تم
نصیحت پکڑو
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
قِسْط:کا لفظ دوسرے کو اس کا پورا پورا حق ادا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ وہ یکمیشت ہو یا بالا قساط۔ خصوصاً جبکہ باب افعال سے ہو اور اس کا تعلق ظاہری چیزوں سے ہوتا ہے۔
عَدْل:دوسرے کو اس کا پورا پورا حق یا اس کی مالیت کے برابر اس کا عوض دینا اور تناسب اور مساوات کو ملحوظ رکھنا اور اس کا استعمال ظاہری اور باطنی اموار میں عام ہیں۔