🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر القرآن الکریم
سورة الحجر
وَ نَبِّئۡہُمۡ عَنۡ ضَیۡفِ اِبۡرٰہِیۡمَ ﴿ۘ۵۱﴾
اور انھیں ابراہیم کے مہمانوں کے بارے میں خبر دے۔[51]
تفسیر القرآن الکریم
(آیت51){وَ نَبِّئْهُمْ عَنْ ضَيْفِ اِبْرٰهِيْمَ: ” ضَيْفِ “} یہ {”ضَافَ يَضِيْفُ“} کا مصدر ہے، جو مائل ہونے کے معنی میں آتا ہے، مہمان چونکہ کسی کی طرف مائل ہو کر ہی آتا ہے، اس لیے اسے {”ضَيْفٌ“} کہتے ہیں، یہ واحد، تثنیہ اور جمع سبھی کے لیے {”ضَيْفٌ “} واحد ہی آتا ہے، جیسا کہ اس آیت میں جمع کے لیے آیا ہے بعض لوگ اس کی جمع {”اَضْيَافٌ“} یا {”ضُيُوْفٌ“} بھی استعمال کرتے ہیں۔