🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر القرآن الکریم
سورة مريم
وَّ حَنَانًا مِّنۡ لَّدُنَّا وَ زَکٰوۃً ؕ وَ کَانَ تَقِیًّا ﴿ۙ۱۳﴾
اور اپنی طرف سے بڑی شفقت اور پاکیزگی (عطا کی) اور وہ بہت بچنے والا تھا۔[13]
تفسیر القرآن الکریم
(آیت 13) {وَ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا …: حَنَانًا } کا عطف { الْحُكْمَ } پر ہے، یعنی ہم نے اسے حکم (قوتِ فیصلہ) اور بڑی شفقت اور پاکیزگی عطا کی۔ { حَنَانًا } اور { زَكٰوةً } پر تنوین تفخیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ بڑی شفقت اور پاکیزگی کیا ہے۔ پاکیزگی سے مراد اخلاق و کردار کی پاکیزگی ہے جو گناہوں سے بچنے سے حاصل ہوتی ہے۔ { تَقِيًّا وَقٰي يَقِيْ} سے {فَعِيْلٌ} کے وزن پر ہے، پہلی واؤ کو تاء سے بدل دیا گیا ہے، یعنی اللہ کی نافرمانی سے بہت بچنے والا تھا۔ { مِنْ لَّدُنَّا } اپنے پاس سے، یعنی یہ حکم حنان اور زکوٰۃ کسی اور کے پاس ہیں ہی نہیں، صرف ہمارے پاس ہیں اور ہم ہی نے اپنے پاس سے انھیں عطا کیے۔