🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر القرآن الکریم
سورة الأنبياء
فَمَا زَالَتۡ تِّلۡکَ دَعۡوٰىہُمۡ حَتّٰی جَعَلۡنٰہُمۡ حَصِیۡدًا خٰمِدِیۡنَ ﴿۱۵﴾
تو ان کی پکار ہمیشہ یہی رہی، یہاں تک کہ ہم نے انھیں کٹے ہوئے، بجھے ہوئے بنا دیا۔[15]
تفسیر القرآن الکریم
(آیت 15){ فَمَا زَالَتْ تِّلْكَ دَعْوٰىهُمْ …: حَصِيْدًا حَصَدَ يَحْصُدُ} (درانتی سے کاٹنا) سے {فَعِيْلٌ} بمعنی مفعول ({مَحْصُوْدٌ}) ہے۔ فعیل کا وزن مذکر و مؤنث اور واحد، تثنیہ، جمع سب کے لیے ایک ہی آتا ہے، معنی کٹے ہوئے۔