🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر القرآن الکریم
سورة المؤمنون
فَاَخَذَتۡہُمُ الصَّیۡحَۃُ بِالۡحَقِّ فَجَعَلۡنٰہُمۡ غُثَآءً ۚ فَبُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۴۱﴾
تو انھیں چیخ نے حق کے ساتھ آپکڑا۔ پس ہم نے انھیں کوڑا کرکٹ بنا دیا۔ سو ظالم لوگوں کے لیے دوری ہو۔[41]
تفسیر القرآن الکریم
(آیت 41){ فَاَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ بِالْحَقِّ:} یعنی جو سزا انھیں دی گئی تھی وہ عین عدل و انصاف کے مطابق تھی، ان پر کوئی زیادتی نہیں کی گئی۔ بعض نے { فَاَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ بِالْحَقِّ } کا ترجمہ یہ کیا ہے: آخر سچے وعدے کے مطابق ایک چیخ نے انھیں آ دبوچا۔ یعنی وہ وعدہ جو { عَمَّا قَلِيْلٍ لَّيُصْبِحُنَّ نٰدِمِيْنَ } کے ضمن میں پایا جاتا ہے۔ {اَلْحَقُّ} سے مراد قطعی امر بھی ہو سکتا ہے، جسے کوئی روک نہ سکتا ہو۔ (روح)