🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر القرآن الکریم
سورة فصلت/حم السجده
وَ اِذَاۤ اَنۡعَمۡنَا عَلَی الۡاِنۡسَانِ اَعۡرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِہٖ ۚ وَ اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ فَذُوۡ دُعَآءٍ عَرِیۡضٍ ﴿۵۱﴾
اور جب ہم انسان پر انعا م کرتے ہیں وہ منہ موڑ لیتا ہے اور اپنا پہلو دور کر لیتا ہے اور جب اسے مصیبت پہنچتی ہے تو(لمبی) چوڑی دعا والا ہے۔[51]
تفسیر القرآن الکریم
(آیت 51) {وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ: نَأٰي يَنْأٰي نَأْيًا} (ف) دور ہونا۔ یہ فعل لازم ہے، { بِجَانِبِهٖ } پر آنے والی باء کے ساتھ متعدی ہو گیا، اس لیے { نَاٰ بِجَانِبِهٖ } کا معنی ہے اپنا پہلو دور کر لیتا ہے۔ پچھلی آیت میں کافر انسان کا قول بیان ہوا ہے، اس آیت میں اس کا حال بیان ہوا ہے۔ اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (۱۲)۔ ہود(11،10) اور سورۂ زمر (۴۹)۔