🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر القرآن الکریم
سورة الذاريات
فَاَوۡجَسَ مِنۡہُمۡ خِیۡفَۃً ؕ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ ؕ وَ بَشَّرُوۡہُ بِغُلٰمٍ عَلِیۡمٍ ﴿۲۸﴾
تو اس نے ان سے دل میں خوف محسوس کیا، انھوں نے کہا مت ڈر ! اور انھوںنے اسے ایک بہت علم والے لڑکے کی خوش خبری دی۔[28]
تفسیر القرآن الکریم
(آیت 28) ➊ {فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيْفَةً …:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۷۰) کی تفسیر۔

➋ { وَ بَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِيْمٍ:} سورۂ ہود میں اس لڑکے کا نام اسحاق آیا ہے، وہ غلام عليم تھے اور اسماعیل علیہ السلام غلام حلیم۔ ان کا ذکر سورۂ صافات (۱۰۱) میں ہے۔ اسحاق علیہ السلام کو { بِغُلٰمٍ عَلِيْمٍ } فرمایا، حالانکہ { عَلِيْمٍ } تو انھوں نے جوانی میں بننا تھا۔ اس سے ظاہر ہے کہ جو بچے حفظ شروع کر دیں انھیں آئندہ کا لحاظ کرتے ہوئے حافظ کہا جا سکتا ہے۔ (و اللہ اعلم)