بلکہ قیامت ان کے وعدے کا وقت ہے اور قیامت زیادہ بڑی مصیبت اور زیادہ کڑوی ہے۔[47]
تفسیر القرآن الکریم
(آیت 47){ اِنَّ الْمُجْرِمِيْنَ فِيْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ:} مجرمین سے مراد مشرکین ہیں، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يَضْحَكُوْنَ»[ المطففین: ۲۹ ]”بے شک وہ لوگ جنھوں نے جرم کیے،ان لوگوں پر جو ایمان لائے، ہنسا کرتے تھے۔“ اور فرمایا: «هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيْ يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُوْنَ»[ الرحمٰن: ۴۳ ]”یہی ہے وہ جہنم جسے مجرم لوگ جھٹلاتے تھے۔ “ یعنی مشرکین اپنی دانست میں بڑے دانا اور صحیح راستے پر چلنے والے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ بہت بڑی گمراہی اور دیوانگی میں مبتلا ہیں۔