🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر القرآن الکریم
سورة الواقعة
وَّ ظِلٍّ مَّمۡدُوۡدٍ ﴿ۙ۳۰﴾
اور ایسے سائے میں جو خوب پھیلا ہوا ہے ۔[30]
تفسیر القرآن الکریم
(آیت 30) {وَ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ:} ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيْرُ الرَّاكِبُ فِيْ ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لاَ يَقْطَعُهَا وَاقْرَؤا إِنْ شِئْتُمْ: «وَ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ» ‏‏‏‏ ] [ بخاري، التفسیر، باب قولہ: «‏‏‏‏و ظل ممدود» ‏‏‏‏: ۴۸۸۱ ] ”جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے میں سوار سو سال چلتا رہے گا۔ چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: «‏‏‏‏وَ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ» ‏‏‏‏ ”اور ایسے سائے میں جو خوب پھیلا ہوا ہے۔“ {” مَمْدُوْدٍ “} میں سائے کا جگہ کے لحاظ سے پھیلاؤ بھی شامل ہے اور زمانے کے لحاظ سے بھی، جیساکہ فرمایا: «اُكُلُهَا دَآىِٕمٌ وَّ ظِلُّهَا» ‏‏‏‏ [ الرعد: ۳۵ ] ”اس کا پھل دائمی ہے اور اس کا سایہ بھی۔“