🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الأعراف
اِنَّ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوا الۡعِجۡلَ سَیَنَالُہُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ وَ ذِلَّۃٌ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ؕ وَ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُفۡتَرِیۡنَ ﴿۱۵۲﴾
بے شک وہ لوگ جنھوں نے بچھڑا بنا لیا عنقریب انھیں ان کے رب کی طرف سے بھاری غضب پہنچے گا اور بڑی رسوائی دنیا کی زندگی میں اور ہم جھوٹ باندھنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔[152]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
152۔ (اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ) جن لوگوں نے بچھڑے کو الٰہ بنایا تھا ان پر ضرور ان کے پروردگار کا غضب [149] نازل ہو گا اور وہ اس دنیا کی زندگی میں رسوا ہوں گے۔ اور (اللہ پر) افترا کرنے والوں کو ہم ایسے ہی سزا دیا کرتے ہیں
[149] گؤ سالہ پرستوں کا قتل عام:۔

اللہ کا غضب وہی تھا جس کا ذکر سورۃ بقرہ کی آیت 54 میں گزر چکا ہے کہ ایسے بچھڑا پرست مشرکوں کو قتل کر کے باقی معاشرہ کو شرک سے پاک کر دیا جائے۔ گؤ سالہ پرستی کے معاملہ میں بنی اسرائیل کے تین گروہ ہو گئے تھے ایک وہ لوگ تھے جنہوں نے بچھڑے کی پرستش کی تھی دوسرے وہ تھے جنہوں نے خود پرستش تو نہ کی مگر کرنے والوں کو منع بھی نہیں کرتے تھے اور تیسرے وہ تھے جنہوں نے پرستش بھی نہ کی اور پرستش کرنے والوں کو منع بھی کرتے رہے۔ جب ان لوگوں کو اپنے اس جرم عظیم کا احساس ہوا اور اللہ سے توبہ کی درخواست کی تو اللہ نے توبہ کی قبولیت کی شرط یہ قرار دی کہ تمام گؤ سالہ پرست مشرکوں کو قتل کر دیا جائے اور انہیں قتل کرنے والے وہ لوگ ہوں گے جو خود اس شرک سے بچتے بھی رہے اور مشرکوں کو اس شرک سے منع بھی کرتے رہے۔