🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة هود
قَالَتۡ یٰوَیۡلَتٰۤیءَ اَلِدُ وَ اَنَا عَجُوۡزٌ وَّ ہٰذَا بَعۡلِیۡ شَیۡخًا ؕ اِنَّ ہٰذَا لَشَیۡءٌ عَجِیۡبٌ ﴿۷۲﴾
اس نے کہا ہائے میری بربادی! کیا میں جنوں گی، جب کہ میں بوڑھی ہوں اور یہ میرا خاوند ہے بوڑھا، یقینا یہ تو ایک عجیب چیز ہے.[72]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
72۔ وہ بولی: اے ہے! کیا میں بچہ جنوں گی جبکہ میں خود بھی بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہے [83] یہ تو بڑی عجیب بات ہو گی
[83] اس وقت سیدہ سارہ کی عمر سو سال سے چند سال کم تھی اور حیض مدت سے بند ہو چکا تھا اور سیدنا ابراہیمؑ کی عمر سو سال سے چند سال زائد تھی لہٰذا سیدہ سارہ کا بطور تعجب ایسے الفاظ کہنا ایک فطری امر تھا اگرچہ اس میں دل کی خوشی بھی شامل تھی۔