پس تو ہرگز گمان نہ کر کہ اللہ اپنے رسولوں سے اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا ہے۔ یقینا اللہ سب پر غالب، بدلہ لینے والا ہے۔[47]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
47۔ (اے نبی)! یہ کبھی خیال نہ کرنا کہ اللہ نے اپنے رسولوں سے جو وعدہ کیا ہے وہ اسے پورا نہ کرے گا [47] اللہ یقیناً سب پر غالب اور انتقام لینے پر قادر ہے
[47] اس آیت میں بظاہر خطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے مگر اصل مقصود مخالفین کو اس بات پر مطلع کرنا ہے کہ اللہ نے اپنے رسولوں سے پہلے بھی جتنے وعدے کیے تھے سب پورے کر دیئے تھے اور وقت آنے پر رسولوں کی مدد کی اور ان کے مخالفین کو تباہ و برباد کیا تھا اور آپ سے جو وعدہ کیا جا رہا ہے وہ بھی اللہ پورا کر کے رہے گا کیونکہ وہ سب پر غالب اور منکرین حق سے انتقام لینے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔