پھر جو شخص کسی وصیت کرنے والے سے کسی قسم کی طرف داری یا گناہ سے ڈرے، پس ان کے درمیان اصلاح کر دے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، یقینا اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔[182]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
182۔ البتہ جس کسی شخص کو وصیت کرنے والے کی طرف سے نا دانستہ یا دانستہ طرفداری [228] کا خطرہ ہو اور وہ وارثوں میں سمجھوتہ کرا دے تو اس پر کچھ گناہ نہیں۔۔ بیشک اللہ بڑا بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے
[228] ہاں اگر معلوم ہو جائے کہ مرنے والے نے وصیت کرنے میں غلطی کی، خواہ وہ دیدہ دانستہ تھی۔ یا نا دانستہ یا کسی کی طرفداری کر گیا تو اس میں وارثوں کے صلاح مشورہ سے تبدیلی کی جا سکتی ہے بلکہ ولی یا با اختیار وارث کو ایسی ترمیم ضرور کر دینا چاہیے۔ اس طرح ممکن ہے کہ وصیت کرنے والے کا گناہ بھی اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔