🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الكهف
مَا لَہُمۡ بِہٖ مِنۡ عِلۡمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِہِمۡ ؕ کَبُرَتۡ کَلِمَۃً تَخۡرُجُ مِنۡ اَفۡوَاہِہِمۡ ؕ اِنۡ یَّقُوۡلُوۡنَ اِلَّا کَذِبًا ﴿۵﴾
نہ انھیں اس کا کوئی علم ہے اور نہ ان کے باپ دادا کو۔ بولنے میں بڑی ہے، جو ان کے مونہوں سے نکلتی ہے، وہ سراسر جھوٹ کے سوا کچھ نہیں کہتے۔[5]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
5۔ اس بات کا نہ انھیں خود کچھ علم ہے، نہ ان کے باپ دادا کو تھا۔ بہت ہی سخت بات [5] ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے۔ جو کچھ وہ کہتے ہیں سراسر جھوٹ ہے۔
[5] کیونکہ اللہ کے لیے اولاد قرار دینا انتہائی گستاخی کی بات ہے اور یہ ایسی بات ہے جس کا الہامی کتابوں کی سچی تعلیم میں کہیں ڈھونڈے سے بھی سراغ نہیں مل سکتا اس کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ ان لوگوں کے بزرگوں اور آباء و اجداد میں سے کسی نے ایسی بات کہہ دی اور بلا تحقیق کہہ دی۔ بعد میں آنے والی نسلوں میں یہی بلا تحقیق، جھوٹی اور انہونی بات ان کے عقیدہ میں شامل ہو گئی۔