🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة مريم
قَالَتۡ اِنِّیۡۤ اَعُوۡذُ بِالرَّحۡمٰنِ مِنۡکَ اِنۡ کُنۡتَ تَقِیًّا ﴿۱۸﴾
اس نے کہا بے شک میں تجھ سے رحمان کی پناہ چاہتی ہوں، اگر تو کوئی ڈر رکھنے والا ہے۔[18]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
18۔ وہ بولی اگر تمہیں کچھ اللہ کا خوف ہے تو میں تم سے اللہ کی پناہ [19] مانگتی ہوں۔
[19] سیدہ مریم اور جبرئیل کا مکالمہ:۔

یہ صورت حال دیکھ کر سیدہ مریم سخت خوفزدہ ہو گئیں اور ان کے لئے یہ انتہائی نازک وقت تھا۔ خود بھی نوجوان تھیں، سامنے نوجوان اور خوش شکل مرد کھڑا تھا۔ تنہائی تھی، کوئی دوسرا پاس موجود بھی نہ تھا۔ نووارد کا نورانی چہرہ دیکھ کر اندازہ کیا کہ آدمی تو کوئی پرہیزگار ہی معلوم ہوتا ہے۔ لہٰذا اسے اللہ کا واسطہ دے کر کہا کہ میں تیری طرف سے رحمٰن کی پناہ میں آتی ہوں۔ یعنی اس بات سے کہ تو مجھ پر کسی قسم کی دست درازی کرے۔