🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة مريم
وَ کَانَ یَاۡمُرُ اَہۡلَہٗ بِالصَّلٰوۃِ وَ الزَّکٰوۃِ ۪ وَ کَانَ عِنۡدَ رَبِّہٖ مَرۡضِیًّا ﴿۵۵﴾
اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا تھا اور وہ اپنے رب کے ہاں پسند کیا ہوا تھا۔[55]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
55۔ وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ ادا [52] کرنے کا حکم دیتے تھے اور اپنے پروردگار کے نزدیک ایک پسندیدہ انسان تھے۔
[52] اصلاح کا آغاز گھر سے ہونا چاہئے:۔

اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ اصلاح اور دین کی دعوت کا آغاز اپنے بعد اپنے گھر سے کرنا چاہئے پھر بتدریج اس کا حلقہ وسیع کرتے جانا چاہئے۔ اور یہی سب پیغمبروں اور سلف صالحین کا دستور رہا ہے۔ دوسری یہ کہ نماز اور زکوٰۃ ایسے اہم ارکان اسلام ہیں۔ جن کا حکم تمام انبیاء کی شریعتوں میں موجود رہا ہے۔