🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة مريم
اَفَرَءَیۡتَ الَّذِیۡ کَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوۡتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًا ﴿ؕ۷۷﴾
تو کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہمار ی آیات کا انکار کیا اور کہا مجھے ضرور ہی مال اور اولاد دی جائے گی۔[77]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
77۔ بھلا آپ نے اس شخص کی حالت [70] پر بھی غور کیا جو ہماری آیات کا انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے مال اور اولاد ضرور دیا جائے گا؟
[70] خباب بن ارت کی مزدوری آخرت کو دینے والا:۔

اس آیت کا روئے سخن ایک قریشی سردار عاص بن وائل سہمی سے ہے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے: سیدنا خباب بن ارت کہتے ہیں کہ میں مکہ میں لوہار کا پیشہ کیا کرتا تھا۔ میں نے عاص بن وائل سہمی کے لئے ایک تلوار بنائی۔ میں اس کی مزدوری مانگنے کے لئے عاص کے پاس گیا وہ کہنے لگا۔ میں اس وقت تک تجھے مزدوری نہیں دوں گا۔ جب تک تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر نہ جائے۔ میں نے کہا ”جب اللہ تجھے موت دے گا پھر تجھے زندہ کرے گا، میں تو اس وقت تک بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہیں کروں گا“ وہ کہنے لگا: ”اچھا اگر اللہ مجھے مرنے کے بعد زندہ کرے گا تو پھر مجھے مال اور اولاد بھی دے گا (اس وقت میں تمہارا حساب چکا دوں گا) اس وقت اللہ نے یہ آیات نازل فرمائیں“ [بخاري، كتاب التفسير، ترمذي، ابواب التفسير]

اسی عاص بن وائل کے بیٹے سیدنا عمرو بن عاصؓ ہیں۔ جب یہ ابھی اسلام نہیں لائے تھے تو حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے مسلمانوں کی واپسی کا مطالبہ کرنے والے قریشی وفد کے نمائندے تھے۔ پھر جب اسلام لائے تو اسلام کی بیش بہا خدمات سرانجام دی تھیں۔