🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة طه
مَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡہُ فَاِنَّہٗ یَحۡمِلُ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وِزۡرًا ﴿۱۰۰﴾ۙ
جو اس سے منہ پھیرے گا تو یقینا وہ قیامت کے دن ایک بڑا بوجھ اٹھائے گا۔[100]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
100۔ جو شخص اس سے اعراض کرے گا وہ قیامت کے دن گناہ کا بوجھ [70] اٹھائے ہوئے ہو گا۔
[70] وزر بمعنی گناہ کا بوجھ یا پاپ کے گٹھری۔ اب جو شخص عمر بھر نہ قرآن کے نزدیک آئے، نہ اس کی کوئی ہدایت ماننے کو تیار ہو تو لامحالہ اس کی زندگی شتر بے مہار کی طرح ہو گی جو اللہ کی نافرمانیوں اور گناہوں پر مشتمل ہو گی۔ لہٰذا اسے اپنے اعمال کا ناقابل برداشت بوجھ اٹھانا پڑے گا۔ اس دنیا میں تو ایسے بوجھ کا تصور ہی کیا جا سکتا ہے۔ لیکن وہاں اس بوجھ کو مادی شکل دے دی جائے گی اور وہ اس بوجھ تلے پس رہا ہو گا۔