فرمایا تم دونوں اکٹھے اس سے اتر جائو، تم میں سے بعض بعض کا دشمن ہے، پھر اگر کبھی واقعی تمھارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جس نے میری ہدایت کی پوری طرح پیروی کی تو نہ وہ گمراہ ہوگا اور نہ مصیبت میں پڑے گا۔[123]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
123۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم دونوں (یعنی انسان اور شیطان) سب [88] یہاں سے نکل جاؤ۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے۔ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت آئے تو جو کوئی میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ تو گمراہ ہو گا اور نہ تکلیف [89] اٹھائے گا۔
[88] کون کس کا دشمن؟ فریق کون کون ہیں؟
اس مقام پر تثنیہ استعمال ہوا ہے۔ جس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک مطلب ترجمہ میں واضح ہے کہ ایک فریق آدم و حوا تھے اور دوسرا فریق شیطان اور خطاب کے لحاظ سے ان فریقوں میں ان کی اولاد بھی شامل ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ایک فریق آدم، دوسرا حوا ہو، جمیعاً کا معنی سب کے بجائے ”مل کر، اکٹھے یا ایک ساتھ“ کیا جائے، اور خطاب آدم و حوا کی اولاد سے ہو۔ اور ان کی اولاد میں دشمنی اس طرح ہو گی کہ ان کی اولاد میں سے ایک فریق اللہ کا فرمانبردار بن کر رہے گا اور دوسرا شیطان کا تابع فرمان۔ ان دونوں فریقوں میں حق و باطل کی جنگ جاری اور دشمنی قائم رہے گی۔
[89] یشقیٰ کے بھی دو مطلب ہیں ایک یہ کہ وہ جنت کی راہ سے بہکے گا نہیں اور نہ اس سے محروم ہو کر دوزح کی تکلیفیں اٹھائے گا۔ بلکہ سیدھا جنت میں پہنچ جائے گا جو اس کا اصل وطن تھا اور اس لفظ کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ بد بختی میں مبتلا نہ ہو گا۔ دنیا میں بھی اس کا مقدر اسے ضرور ملے گا اور آخرت میں تو وہ بہرحال خوش نصیب ہو گا۔