🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة البقرة
وَ لِلۡمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ؕ حَقًّا عَلَی الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۲۴۱﴾
اور ان عورتوں کے لیے جنھیں طلاق دی گئی ہے، کچھ نہ کچھ سامان دینا معروف طریقے سے (لازم) ہے، پرہیز گاروں پر یہ حق ہے۔[241]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
241۔ اسی طرح مطلقہ عورتوں کو معروف طریقے [338] سے کچھ دے دلا کر رخصت کرنا چاہیے اور یہ بات پرہیزگاروں کے لیے انتہائی ضروری ہے
[338] مطلقہ عورتوں کو دے دلا کر رخصت کرنے کا حکم:۔

آیت نمبر 236 میں طلاق کے وقت کچھ دے دلا کر رخصت کرنے کا حکم صرف ایسی مطلقہ کے لیے ہے جس کا نہ تو حق مہر مقرر ہوا ہو۔ نہ ہی اس کے خاوند نے صحبت کی ہو اور وہ صحبت سے پیشتر ہی فوت ہو جائے۔ اب یہاں ایسا حکم ہر قسم کی مطلقہ کے لیے دیا جا رہا ہے اور اس کی تاکید بھی کر دی گئی کہ پرہیزگاروں کا یہ شیوہ نہیں ہوتا کہ وہ طلاق دے کر مطلقہ کو خالی ہاتھ گھر سے نکال باہر کریں۔