🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الأنبياء
وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحۡمٰنُ وَلَدًا سُبۡحٰنَہٗ ؕ بَلۡ عِبَادٌ مُّکۡرَمُوۡنَ ﴿ۙ۲۶﴾
اور انھوں نے کہا رحمان نے کوئی اولاد بنا رکھی ہے، وہ پاک ہے، بلکہ وہ بندے ہیں جنھیں عزت دی گئی ہے۔[26]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
26۔ (مشرکین) کہتے ہیں کہ رحمن کا اولاد [22] ہے۔ اللہ ایسی باتوں سے پاک ہے، بلکہ وہ تو اس کے معزز بندے ہیں۔
[22] فرشتے اللہ کی اولاد نہیں بلکہ اللہ کے فرمانبردار بندے ہیں:۔

یہ خطاب صرف مشرکین مکہ کو ہے جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ کیونکہ آگے اسی بات کی وضاحت آرہی ہے۔ یہ فرشتے اللہ کے دست بستہ غلام ہیں اور معزز اس لحاظ سے ہیں کہ ہر وقت اللہ کی تسبیح و تقدیس میں مشغول رہتے ہیں۔ وہ با ادب اتنے ہیں کہ اللہ کے حضور کوئی بات ہی نہیں کرتے بس صرف حکم کے منتظر رہتے ہیں۔ اور جب انھیں کوئی حکم دیا جاتا ہے تو فوراً اس کی تعمیل کرتے ہیں۔