🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الأنبياء
وَ مَا جَعَلۡنَا لِبَشَرٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ الۡخُلۡدَ ؕ اَفَا۠ئِنۡ مِّتَّ فَہُمُ الۡخٰلِدُوۡنَ ﴿۳۴﴾
اور ہم نے تجھ سے پہلے کسی بشر کے لیے ہمیشگی نہیں رکھی، سو کیا اگر تو مر جائے تو یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں۔[34]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
34۔ (اے نبی) آپ سے پہلے بھی ہم نے کسی انسان کے لئے دائمی زندگی تو نہیں رکھی، اگر آپ مر جائیں تو کیا یہ ہمیشہ زندہ [32] رہیں گے؟
[32] ہجرت حبشہ اور کفار کی پریشانی:۔

جب کفار مکہ کے ظلم و ستم اور چیرہ دستیوں سے تنگ آ کر 80 کے قریب مسلمان حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے۔ تو قریش مکہ کے سب گھروں میں کہرام مچ گیا۔ کیونکہ مشکل ہی سے کوئی گھرانا ایسا بچا رہ گیا ہو گا جس کے کسی لڑکے یا لڑکی نے ہجرت نہ کی ہو۔ ان لوگوں کو اپنی ایذا رسانیوں کا تو خیال تک نہ آتا تھا مگر یہ ضرور سمجھتے تھے کہ ہمارے گھروں کی بربادی کا باعث صرف یہ شخص (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) ہے۔ لہٰذا وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ اگر یہ شخص مر جائے تو ہمارے گھر پھر سے آباد ہو سکتے ہیں۔ پھر وہ آپ کے لئے موت کی بددعا بھی کرتے تھے۔ اس آیت میں انہی لوگوں کو مخاطب کر کے بتلایا جا رہا ہے کہ موت ہر ایک کو آنے والی ہے۔ پہلے بھی سب لوگ گزر چکے اور اس نبی کو بھی اپنے وقت پر موت آنے والی ہے۔ مگر تم بتاؤ کہ تم موت سے بچ سکتے ہو۔ وہ تو تمہیں بھی آکے رہے گی اور کیا معلوم کہ تم سے اکثر اس سے پہلے ہی مر جائیں۔