🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الأنبياء
وَ اِنۡ اَدۡرِیۡ لَعَلَّہٗ فِتۡنَۃٌ لَّکُمۡ وَ مَتَاعٌ اِلٰی حِیۡنٍ ﴿۱۱۱﴾
اور میں نہیں جانتا شاید یہ تمھارے لیے ایک آزمائش ہو اور ایک وقت تک کچھ فائدہ اٹھانا ہو۔[111]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
111۔ اور میں نہیں جانتا کہ شاید یہ (عذاب میں تاخیر) تمہارے لئے ایک فتنہ ہو [98] اور تمہیں ایک معینہ مدت تک مزے اڑانے کا موقع دیا جاتا ہے۔
[98] البتہ یہ بات ضرور کہوں گا کہ اگر تم پر عذاب آنے میں تاخیر ہو رہی ہے تو اس سے یہ نہ سمجھ لینا کہ تم سچے ہو اور اللہ تم سے راضی ہے۔ بلکہ یہ تاخیر تمہارے گناہوں میں اضافہ کا سبب بن کر تمہارے حق میں وبال جان بن سکتی ہے۔ الا یہ کہ تم اس دوران سنبھل جاؤ اور ہوش کے ناخن لو۔