🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة المؤمنون
اِنۡ ہُوَ اِلَّا رَجُلُۨ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا وَّ مَا نَحۡنُ لَہٗ بِمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۳۸﴾
یہ نہیں ہے مگر ایک آدمی، جس نے اللہ پر ایک جھوٹ گھڑ لیا ہے اور ہم ہرگز اسے ماننے والے نہیں ہیں۔[38]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
38۔ یہ ایک ایسا آدمی ہے جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے [42] اور ہم کبھی اس کی بات نہیں پائیں گے
[42] اسی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم عاد اللہ تعالیٰ کی ہستی کے قائل تھے۔ اور ان کے نزدیک حضرت ہودؑ کا اللہ پر جھوٹ باندھنا یہ تھا کہ میں اللہ کی طرف سے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں یا یہ کہ مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ ضرور تمہیں دوبارہ پیدا کرے گا اور تم سے تمہارے اعمال کا مواخذہ کرے گا۔ اور یہ دونوں باتیں ہم ہرگز تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔