اور یہ کہ میں قرآن پڑھوں، پھر جو سیدھے راستے پر آجائے تو وہ اپنے ہی لیے راستے پر آتا ہے اور جو گمراہ ہو تو کہہ دے کہ میں تو بس ڈرانے والوں میں سے ہوں۔[92]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
92۔ اور یہ قرآن پڑھ کر سناؤں۔ اب جو شخص راہ راست پر آتا ہے تو وہ اپنے ہی فائدہ [102] کے لیے آتا ہے اور جو گمراہ ہوا تو اس سے آپ کہہ دیجئے کہ میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں
[102] اور یہ حکم ہوا ہے کہ جس قدر قرآن نازل ہوتا جائے۔ ساتھ کے ساتھ تم لوگوں کو سناتا جاؤں۔ رہی یہ بات کہ تم ان قرآنی آیات کی طرف توجہ دیتے ہو یا نہیں۔ یا سیدھی راہ کی طرف آتے ہو یا نہیں۔ یہ میری ذمہ داری نہیں، میری ذمہ داری صرف قرآن سنا دینا ہے۔ پھر اگر ہدایت قبول کر لو گے تو اس میں تمہارا ہی بھلا ہے۔ دنیا میں اللہ عزت اور اقتدار بخشے گا اور آخرت میں جہنم کے عذاب سے بچ جاؤ گے اور گمراہ ہی رہنا چاہتے ہو تو تمہاری مرضی میں اپنا کام سرانجام دے چکا۔