🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة القصص
وَ لَمَّا تَوَجَّہَ تِلۡقَآءَ مَدۡیَنَ قَالَ عَسٰی رَبِّیۡۤ اَنۡ یَّہۡدِیَنِیۡ سَوَآءَ السَّبِیۡلِ ﴿۲۲﴾
اور جب اس نے مدین کی طرف رخ کیا تو کہا میرا رب قریب ہے کہ مجھے سیدھے راستے پر لے جائے۔[22]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
22۔ پر جب انہوں نے [31] مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے امید ہے میرا پروردگار مجھے ٹھیک راستے میں ڈال دے گا
[31] مدین یہاں سے آٹھ دن کی مسافت پر تھا اور فرعون کی حدود سلطنت سے باہر تھا۔ آپ نے اس مخلص ساتھی سے یہ اطلاع پاتے ہی مدین کا رخ کیا اور بچتے بچاتے خوب چوکنے ہو کر وہاں سے نکل کھڑے ہوئے اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا اللہ! مجھے ان ظالموں کی دستبردار سے بچا لے اور ایسی راہ پر ڈال دے جو سیدھا مدین کو جاتا ہو اور میں ان ظالموں سے بچ کر وہاں پہنچ سکوں۔