🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة القصص
فَسَقٰی لَہُمَا ثُمَّ تَوَلّٰۤی اِلَی الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّیۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَیَّ مِنۡ خَیۡرٍ فَقِیۡرٌ ﴿۲۴﴾
تواس نے ان کے لیے پانی پلا دیا، پھر پلٹ کر سائے کی طرف آگیا اور اس نے کہا اے میرے رب! بے شک میں، جو بھلائی بھی تو میری طرف نازل فرمائے، اس کا محتاج ہوں۔[24]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
24۔ چنانچہ موسیٰ نے ان عورتوں کی بکریوں کو پانی پلا دیا۔ پھر ایک سائے دار جگہ پر جا [33] بیٹھے اور کہا: میرے پروردگار! جو بھلائی بھی تو مجھے پر نازل کرے، میں اس کا محتاج ہو
[33] سیدنا موسیٰؑ کا شعیبؑ کی بکریوں کو پانی پلانا:۔

موسیٰؑ ان لڑکیوں کی بات سن کر آگے بڑھے۔ طاقتور نوجوان تھے۔ اکیلے ہی پانی کا بھاری بھر کم ڈول نکالا اور ان کی بکریوں کو پانی پلا دیا۔ لڑکیاں اپنے جانور لے کر چلی گئیں تو آپ ایک درخت کے سایہ تلے جا کر بیٹھ گئے۔ آٹھ دن کے تھکے ماندے اور بھوک سے بے تاب ہو رہے تھے۔ اللہ سے کھانا مانگا تو ایسا ادب و احترام کا انداز اختیار کیا۔ جس سے پیغمبرانہ شان خوب نمایاں ہو جاتی ہے۔ فرمایا اس وقت تیری طرف سے جو بھی مجھے بھلائی پہنچے میں اس کا محتاج ہوں۔