🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة القصص
وَ اَخِیۡ ہٰرُوۡنُ ہُوَ اَفۡصَحُ مِنِّیۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡہُ مَعِیَ رِدۡاً یُّصَدِّقُنِیۡۤ ۫ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اَنۡ یُّکَذِّبُوۡنِ ﴿۳۴﴾
اور میرا بھائی ہارون، وہ زبان میں مجھ سے زیادہ فصیح ہے، تو اسے میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج کہ میری تصدیق کرے، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے۔[34]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
34۔ اور میرے بھائی ہارون کی زبان مجھ سے زیادہ صاف ہے اسے میرے ساتھ مددگار کے طور پر بھیج تاکہ وہ میری تصدیق کرے! مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ [44] مجھے جھٹلا دیں گے
[44] سیدنا موسیٰؑ کے خدشات اور التجا، اللہ کی طرف سے امن کی یقین دہانی اور ہارون کو نبوت ملنا:۔

موسیٰؑ اس زبردست آزمائش سے انکار نہ کر سکے البتہ جو خطرات اس مہم میں انھیں نظر آرہے تھے وہ ضرور عرض کر دیئے ایک یہ کہ کہیں وہ سابقہ جرم میں دھر کر قتل ہی نہ کر ڈالیں اور دوسرا یہ کہ جو لوگ خود خدا بنے بیٹھے ہیں وہ میری یہ دعوت کیسے قبول کریں گے؟ لہٰذا مجھے کم از کم ایک ساتھی ضرور درکار ہے۔ اگر میرے بھائی ہارون کو بھی نبوت عطا کر دیں تو ایک تو اس کی زبان فصیح ہے۔ جو بات میں پیش کروں اسے وضاحت سے پیش کر دے گا۔ دوسرے وہ ایک آدمی تو میرا مددگار ہو۔ جب سب لوگ مجھے جھٹلا دیں تو ایک تو میری تصدیق کرنے والا ہو۔ جس سے مجھے کچھ سہارا مل جائے اور وہ بھی حوصلہ افزائی کا باعث بن سکے۔