🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة القصص
وَ اسۡتَکۡبَرَ ہُوَ وَ جُنُوۡدُہٗ فِی الۡاَرۡضِ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ وَ ظَنُّوۡۤا اَنَّہُمۡ اِلَیۡنَا لَا یُرۡجَعُوۡنَ ﴿۳۹﴾
اور وہ اور اس کے لشکر کسی حق کے بغیر زمین میں بڑے بن بیٹھے اور انھوں نے گمان کیا کہ بے شک وہ ہماری طرف واپس نہیں لائے جائیں گے۔[39]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
39۔ اور فرعون اور اس کے لشکر اس ملک میں ناحق ہی برے بن بیٹھے تھے اور انھیں یقین ہو گیا تھا کہ ہمارے حضور [51] واپس نہ لائے جائیں گے۔
[51] انھیں اللہ نے زمین کے تھوڑے سے حصہ میں چند دن کے لئے اقتدار بخشا تو وہ یہ سمجھنے لگے کہ ان سے اوپر کوئی ہستی ہے نہیں جو ان سے یہ اقتدار چھین بھی سکتی ہے۔ نہ ہی انھیں کبھی یہ خیال آیا تھا کہ مرنے کے بعد ہمیں اللہ کے حضور پیش ہونا ہے اور ہمارے ایک ایک کام سے متعلق ہم سے باز پرس ہونے والی ہے۔