🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة القصص
وَ لٰکِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیۡہِمُ الۡعُمُرُ ۚ وَ مَا کُنۡتَ ثَاوِیًا فِیۡۤ اَہۡلِ مَدۡیَنَ تَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِنَا ۙ وَ لٰکِنَّا کُنَّا مُرۡسِلِیۡنَ ﴿۴۵﴾
اور لیکن ہم نے کئی نسلیں پیدا کیں، پھر ان پر لمبی مدت گزر گئی اور نہ تو اہل مدین میں رہنے والا تھا کہ ان کے سامنے ہماری آیات پڑھتا ہو اور لیکن ہم ہمیشہ رسول بھیجنے والے رہے ہیں۔[45]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
45۔ اس کے بعد ہم نے کئی نسلیں پیدا کیں اور ان پر بہت زمانہ بیت [59] چکا ہے اور آپ مدین کے باشندے بھی نہ تھے کہ انہیں [60] ہماری آیات پڑھ کر سناتے مگر ہم ہی ہیں جو (آپ کو رسول بنا کر اس وقت کی خبریں بھیج رہے ہیں۔
[59] موسیٰؑ کے عہد سے لے کر دور نبوی تک تقریباً دو ہزار سال کی مدت ہے اور اس عرصہ میں تقریباً چالیس نسلیں یکے بعد دیگرے پیدا ہوتی رہیں۔ مگر اس دوران ملک حجاز میں کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا تھا۔ دو ہزار سال کے بعد سب سے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم البتہ ان لوگوں (اہل حجاز) کی طرف مبعوث ہوئے۔

[60] یعنی مدین کا باشندہ نہ ہونے کے باوجود آپ ان لوگوں کو حضرت شعیبؑ اور حضرت موسیٰؑ کے حالات یوں بتلا رہے ہیں گویا اس وقت آپ وہاں مقیم تھے اور ان لوگوں کو ہماری آیات پڑھ کر سنایا کرتے تھے۔ اور ان واقعات کے صرف عینی شاہد ہی نہ تھے۔ بلکہ عملی طور پر بھی ان واقعات میں آپ کا عمل دخل تھا۔ اور یہ بات چونکہ ناممکن ہے تو اس سے صاف واضح ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے یہ حالات بذریعہ وحی بتلائے ہوں۔ اور یہی چیز آپ کی نبوت کی دلیل ہے۔