اور جس دن وہ انھیں آواز دے گا، پس کہے گا کہاں ہیں میرے وہ شریک جو تم گمان کرتے تھے؟[62]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
62۔ جس دن اللہ انھیں پکارے گا اور ان سے پوچھے گا: ”کہاں ہیں وہ جنہیں تم میرا [85] شریک سمجھا کرتے تھے۔
[85] اعتراض کا پانچواں جواب:۔
یہ آیت بھی مشرکین مکہ ہی سے متعلق ہے جو دنیوی مفادات کی خاطر شرک اور بت سے چمٹے رہنا چاہتے تھے۔ انھیں ان کی کرتوت کے نتیجہ سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایسے مشرکوں سے پوچھے گا کہ تم یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ یہ دنیوی مفادات تمہیں میرے شریکوں کی وجہ سے مل رہے ہیں۔ اب بتلاؤ آج وہ کہاں ہیں تاکہ آج بھی تمہیں کچھ فائدہ پہنچا سکیں۔ اگر آج وہ تمہیں کچھ فائدہ پہنچا سکے تو سمجھ لینا کہ دنیا میں بھی وہی فائدہ پہنچا رہے تھے اور اگر کچھ فائدہ نہ دے سکیں تو حقیقت تم پر خود واضح ہو جائے گی۔